
Arshad Hamraz
Arshad Hamraz
Arshad Hamraz
Ghazalغزل
چہرے چمکیں گے یونہی زلف پریشاں ہوگی آپ کے بعد یہ دنیا نہیں ویراں ہوگی زندگی اب تو کہیں چھوڑ دے پیچھا میرا کب تلک تو بھی مرے ساتھ پشیماں ہوگی زیست کے غم نے اڑا ڈالی ہے رنگت میری موت بھی مجھ سے ملے گی تو وہ حیراں ہوگی کس طرح میں نے گزاری ہے بہاریں ہمدم یہ خزاں بھی جو سنے گی تو پریشاں ہوگی دوست ہوتے ہیں سبھی اچھے دنوں کے ہمرازؔ منہ یہ پھیریں گے جو مشکل میں تری جاں ہوگی
chehre chamkeinge yunhi zulf pareshaan hogi
تھے لوگ بھولے بھالے نہ جانے کہاں گئے وہ دوست یار سارے پرانے کہاں گئے کاغذ کی ناؤ جیب میں سکے جو چند تھے دل ڈھونڈھتا ہے سارے خزانے کہاں گئے پکے گھروں نے بستی کا نقشہ بدل دیا مٹی کے وہ ہمارے ٹھکانے کہاں گئے گاؤں کی ہر گلی یہ مجھے پوچھتی ہے اب تھیں رونقیں وہ جن سے کمانے کہاں گئے جب گھر تھے چھوٹے سب کے مگر دل فراخ تھے وہ لوگ پیارے اچھے زمانے کہاں گئے ہر شخص اب تو رہتا ہے غمگین ہی یہاں ہنس مکھ جو تھے وہ ہنسنے ہنسانے کہاں گئے اب تو تمام دشت و بیاباں اجڑ گئے آباد تھے یہ جن سے دوانے کہاں گئے ہر سمت اب فضاؤں میں نفرت کی آگ ہے موسم وہ چاہتوں کے سہانے کہاں گئے ہمرازؔ تم بھی شہر کے ہو جاؤ یار اب گاؤں میں تم یہ رونے رلانے کہاں گئے
the log bhole-bhaale na jaane kahaan gae
عشق میں مجھ پہ صحیفے یہاں ترپن اترے ایک میں وصل فقط ہجر کے باون اترے دل کے آنگن میں چلی یادوں کی پروائی جب چپکے چپکے سے مری پلکوں پہ ساون اترے سرخ شانے پہ گھنی زلفیں یوں لہراتی ہیں جیسے صندل سے کوئی کالی سی ناگن اترے مارے غیرت کے چھپے شمس و قمر بدلی میں دھیرے دھیرے جو ترے چہرے سے چلمن اترے نرخ سونے کا گرے شہر کے بازاروں میں ہاتھ سے اس کے اگر بھولے سے کنگن اترے
'ishq mein mujh pe sahife yahaan tirpan utre
زندگی کے اس سفر میں حادثے بڑھنے لگے رنج و غم سے رفتہ رفتہ رابطے بڑھنے لگے زہر نفرت کے دماغ و دل میں کس نے بھر دئے جسم و جاں کے درمیاں اب فاصلے بڑھنے لگے زیست کے اس کھیل میں بس شرط مرنے ہی کی تھی ہم ہوئے شامل تو اس کے ضابطے بڑھنے لگے سامنے منزل تھی پر ملنا مقدر میں نہ تھا جس طرف پاؤں اٹھے وہ راستے بڑھنے لگے اچھے اچھوں کی نظر اٹھتی نہ تھی پہلے ادھر اب تو ایسے ویسوں کے بھی حوصلے بڑھنے لگے جب سے وہ ہمرازؔ بن بیٹھا ہے میر کارواں قافلے میں لوٹ کے اب واقعے بڑھنے لگے
zindagi ke is safar mein haadse baDhne lage
ہم ترے شہر سے اے یار ہیں ایسے نکلے اس کے کوچے سے تھے غالبؔ کبھی جیسے نکلے وہ گلی جس میں ہے گزرا مرا جیون سارا اب ادھر نکلوں تو سب کہتے ہیں کیسے نکلے باپ نے چاہا کہ لے آئے کھلونے سارے جیب میں ہاتھ جو ڈالا تو نہ پیسے نکلے پاؤں الجھے تھے کبھی زلف رسا میں اپنے کیا بتائیں کہ ہم اس قید سے کیسے نکلے تم نے بھی شعر مرا سن کے فقط واہ کہا جیسے ہیں لوگ سبھی تم بھی تو ویسے نکلے
ham tire shahr se ai yaar hain aise nikle
بچھڑتے وقت مجھے جینے کی دعا دی ہے تمام عمر تڑپنے کی یہ سزا دی ہے دھڑک رہا ہے یہ دل آج پھر اسی دھن پر بچھڑنے والے نے شاید کہ پھر صدا دی ہے مجھے بھی روکتی ہے یار میری خودداری انا کی تم نے بھی دیوار اک اٹھا دی ہے لگی ہے تھمنے مری سانس ان کی چوکھٹ پر یہ زندگی نے بھی کس موڑ پر دغا دی ہے جو دے رہے ہیں دلاسہ مکاں کے جلنے پر لگی جو آگ انہیں لوگوں نے ہوا دی ہے
bichhaDte vaqt mujhe jiine ki du'aa di hai





