SHAWORDS
A

Arshad Jamal Hashmi

Arshad Jamal Hashmi

Arshad Jamal Hashmi

poet
4Ghazal

Ghazalغزل

غزل · Ghazal

sapedi rang-e-jahaan mein nahin milaataa huun

سپیدی رنگ جہاں میں نہیں ملاتا ہوں حقیقتوں کو گماں میں نہیں ملاتا ہوں سرشک غم رگ جاں میں نہیں ملاتا ہوں میں زہر آب رواں میں نہیں ملاتا ہوں جو کہہ دیا کہ ترا ہوں تو صرف تیرا ہوں میں جھوٹ اپنے بیاں میں نہیں ملاتا ہوں تمام شہر تری ہاں میں ہاں ملاتا ہے اکیلا میں تری ہاں میں نہیں ملاتا ہوں تمہارا غم غم دنیا سے دور رکھا ہے کبھی میں سود زیاں میں نہیں ملاتا ہوں گزر گیا جو تری یاد کے بغیر کبھی وہ پل میں عمر رواں میں نہیں ملاتا ہوں سنوارتا ہوں اسے رات جاگ کر ارشدؔ میں خواب خواب گراں میں نہیں ملاتا ہوں

غزل · Ghazal

kuchh darja aur garmi-e-baazaar ho buland

کچھ درجہ اور گرمئ بازار ہو بلند دل بیچئے کہ ذوق خریدار ہو بلند باب قبول بند ہے دست طلب پر اب رب چاہتا ہے پائے طلب گار ہو بلند جھک جائے گا سبو بھی کوئی جام تو اٹھائے دانہ ہے منتظر کوئی منقار ہو بلند دیکھی تھی جس نے پیاس وہ پانی تو بہہ چکا امکاں نہیں کہ پرچم انکار ہو بلند ناخون بھیڑیوں کے تو بڑھتے ہی جاتے ہیں کوئی کماں اٹھے کوئی تلوار ہو بلند مجھ کو بقدر تیشہ نہیں سنگ رہ گزار ارشدؔ مرے لئے کوئی کہسار ہو بلند

غزل · Ghazal

aankhon mein khvaab rakh diye taabir chhin li

آنکھوں میں خواب رکھ دئے تعبیر چھین لی اس نے خطاب بخش کے جاگیر چھین لی غم یہ نہیں کہ بخت نے برباد کر دیا غم ہے تو یہ کہ خواہش تعمیر چھین لی دستار مصلحت تو یوں بھی سر پہ بوجھ تھی اچھا کیا کہ تم نے یہ توقیر چھین لی یہ کس کی بد دعا کی ہے تاثیر یا خدا جس نے مری دعاؤں سے تاثیر چھین لی قدر و قضا کا ذکر کچھ اس طرح سے کیا واعظ نے نوک ناخن تدبیر چھین لی شہرت ملی تھی جرأت تقریر سے جسے شہرت نے اس سے جرأت تقریر چھین لی بت بن گیا تو اس کی نمی ختم ہو گئی بھکتوں نے اس کی خاک سے اکسیر چھین لی اندیشۂ عتاب سے یار اور ڈر گئے قاتل سے ہم نے بڑھ کے جو شمشیر چھین لی بے نطق تھی تو کہتی تھی کیا کیا نہ داستاں گویائی نے تو حیرت تصویر چھین لی رہنے لگا ہے وہ بڑا چپ چپ سا ان دنوں ارشدؔ سے کس نے شوخیٔ تقریر چھین لی

غزل · Ghazal

khvaab kyaa hai ki TuTtaa hi nahin

خواب کیا ہے کہ ٹوٹتا ہی نہیں اک نشہ ہے کہ ٹوٹتا ہی نہیں اس نے کیا کیا ستم نہ توڑے ہیں دل مرا ہے کہ ٹوٹتا ہی نہیں ٹوٹتا جا رہا ہے اک اک خواب سلسلہ ہے کہ ٹوٹتا ہی نہیں رشتے ناطے تمام ٹوٹ گئے سر پھرا ہے کہ ٹوٹتا ہی نہیں پو پھٹی انگ انگ ٹوٹتا ہے اور نشہ ہے کہ ٹوٹتا ہی نہیں لہریں آ آ کے ٹوٹ جاتی ہیں اک گھڑا ہے کہ ٹوٹتا ہی نہیں دل کے دریا میں کیسا سنگ گرا دائرہ ہے کہ ٹوٹتا ہی نہیں ناؤ ٹوٹی دو نیم ہے پتوار حوصلہ ہے کہ ٹوٹتا ہی نہیں دھاگا کچا سہی مگر ارشدؔ یوں بندھا ہے کہ ٹوٹتا ہی نہیں

Similar Poets