SHAWORDS
Arshad Rasool Badayuni

Arshad Rasool Badayuni

Arshad Rasool Badayuni

Arshad Rasool Badayuni

poet
11Ghazal

Ghazalغزل

See all 11
غزل · Ghazal

تعصب کا اگر پودا یہاں پنپا نہیں ہوتا تو اتنا بھی لہو انسان کا سستا نہیں ہوتا لگی ہے بھیڑ اپنوں کی کبھی تنہا نہیں ہوتا غموں کے سخت موسم میں کوئی اپنا نہیں ہوتا کہیں خرگوش بن کر خواب سوتے ہی نہ رہ جائیں سفر میں دیر تک آرام بھی اچھا نہیں ہوتا اگر توڑا گیا تو ایک خنجر بن کے ابھرے گا تمہاری بھول ہے نازک کبھی شیشہ نہیں ہوتا اگر لڑتے جھگڑتے ہی نہیں ہم بلیوں جیسے یہ موقعہ بندروں کے ہاتھ میں آیا نہیں ہوتا ذرا سی دیر میں مل جائے گی شہرت برائی کو مگر ارشدؔ یہاں سچائی کا چرچا نہیں ہوتا

ta'assub kaa agar paudaa yahaan panpaa nahin hotaa

غزل · Ghazal

پیروں میں کئی زخم ہیں چہرے پہ تھکن ہے مزدور کے ماتھے پہ پسینہ نہ شکن ہے موسم ہے بہاروں کا عجب سی یہ گھٹن ہے زخمی مرے گلزار کے ہر پھول کا تن ہے اللہ کی قسم ہم ہیں محبت کے پجاری سجدے بھی ہمارے ہیں ہمارا ہی بھجن ہے مر کر بھی مری روح سے آئے گی یہ آواز یہ میرا وطن میرا وطن میرا وطن ہے کرتے ہی نہیں لوگ بزرگوں سے کوئی بات کہتے ہیں پرانے کہاں سکوں کا چلن ہے رہ جائے گی رکھی ہوئی دنیا کی تمنا ارشدؔ تری قسمت میں اگر تیرا وطن ہے

pairon mein kai zakhm hain chehre pe thakan hai

غزل · Ghazal

اگر آپ چاہیں تو گردن اڑا دیں یہ ممکن نہیں ہم قصیدہ سنا دیں ہمیں غم کی توہین کرنی نہیں ہے جگہ بے جگہ کیسے آنسو گرا دیں یہاں بھوک رو کر یہی کہہ رہی ہے سکوں کے لئے زہر دے کر سلا دیں مکاں بن گیا ہے بڑا خوبصورت مناسب اگر ہو اسے گھر بنا دیں خدا مان سکتے نہیں ناخدا کو بھلے ہی وہ ارشدؔ سفینہ ڈبا دیں

agar aap chaahein to gardan uDaa dein

غزل · Ghazal

اتنا بچوں پہ دھیان دینا ہے جیسے خود امتحان دینا ہے پر ہمارے بھلے ہی کٹ جائیں حوصلوں کو اڑان دینا ہے اب ضرورت نہیں ہے شعلوں کی اک بھڑکتا بیان دینا ہے عشق کی فصل ہو گئی برباد پھر بھی ہم کو لگان دینا ہے خود یہ بچے شکار کر لیں گے ہاتھ میں بس کمان دینا ہے ہم عدالت سے خود نپٹ لیں گے آپ کو بس بیان دینا ہے عشق میں دل لٹا چکے ارشدؔ اب بتاؤ کہ جان دینا ہے

itnaa bachchon pe dhyaan denaa hai

غزل · Ghazal

یہ ہوا اصلیت بتانے میں مشکلیں بڑھ گئیں زمانے میں تب یہ چولہا دھواں اگلتا ہے خون جلتا ہے کارخانے میں غم دہکتے ہیں اس قدر دل میں ہونٹ جلتے ہیں مسکرانے میں یہ کرشمہ نہیں تو پھر کیا ہے جی رہا ہوں ترے زمانے میں سہمی سہمی ہیں فاختائیں یہاں باز بیٹھے ہیں کچھ نشانے میں عشق کی جنگ بھی عجب شے ہے جیت ہوتی ہے ہار جانے میں ہم فقیری سے لو لگا بیٹھے ٹھوکریں مار کر خزانے میں جسم ارشدؔ لہولہان ہوا باغباں سے چمن بچانے میں

ye huaa asliyat bataane mein

غزل · Ghazal

لوگ یوں کمزور ہم کو کہہ گئے ظلم سارے ہم خوشی سے سہہ گئے منہ چڑھانے میں لگا تھا جب فریب لب مرے خاموش ہو کر رہ گئے اک ذرا انکار ہم سے کیا ہوا نیکیوں کے ڈھیر سارے ڈھ گئے آس بھی جنت کی باقی رہ گئی سب خزانے بھی یہیں پر رہ گئے ایک ہچکی غم ہی ایسا دے گئی آنسوؤں کے پھر سمندر بہہ گئے زندگی پوری ہوئی ارشد رسولؔ آپ کے بس کارنامے رہ گئے

log yuun kamzor ham ko kah gae

Similar Poets