
Arti Kumari
Arti Kumari
Arti Kumari
Ghazalغزل
jaa rahaa chupke se suraj kaa badan paani mein
جا رہا چپکے سے سورج کا بدن پانی میں کیا بجھے گی بھلا دن بھر کی جلن پانی میں شام آنچل کو پسارے ہوئے بیٹھی ہے ابھی وہ اتارے گا مسافت کی تھکن پانی میں رنگ لائے مری محنت بھلے کچھ دیر سے ہی ڈوب جائے نہ مری سچی لگن پانی میں جانے کیوں روٹھ گئی پیاس مرے ہونٹوں سے جب سے محسوس ہوئی ایک چبھن پانی میں رات بھر تارے اجالا سبھی کو بانٹیں گے صبح ہوتے ہی بکھیریں گے کرن پانی میں
aandhi chali thi shama bujhaane tamaam raat
آندھی چلی تھی شمع بجھانے تمام رات جلتے رہے تھے خواب سہانے تمام رات یوں میرے درد دل کی دوا بن سکے نہ تم رستے رہے ہیں زخم پرانے تمام رات توڑا تھا جس کے دل کو ستاروں نے بے سبب آئے تھے جگنو اس کو منانے تمام رات جن کے لیے تھی دل کی وہ محفل سجی ہوئی آئے نہیں وہ رسم نبھانے تمام رات آئی نہیں نہ آنکھ لگی صبح ہو گئی کرتی رہی ہے نیند بہانے تمام رات
tiri yaad mein jo guzaaraa gayaa hai
تری یاد میں جو گزارا گیا ہے وہی وقت اچھا ہمارا گیا ہے بھلا اور کیا اپنا پن وہ دکھائے ترا نام لے کر پکارا گیا ہے تمہیں میری حالت پتہ کیا چلے گی مرا جو گیا کب تمہارا گیا ہے تمہیں عشق کا آئنہ مان کر کے مقدر کو اپنے سنوارا گیا ہے عجب ہے محبت کا میدان یارو نہ جیتا گیا ہے نہ ہارا گیا ہے لکھا ریت پر نام میں نے تمہارا ندی میں بھی چہرہ نہارا گیا ہے ہے میری بھی عادت تمہارے ہی جیسی ہر اک رنگ مجھ پہ تمہارا گیا ہے
tumhein duniyaa ki nazron se bachaa kar saath rakhnaa hai
تمہیں دنیا کی نظروں سے بچا کر ساتھ رکھنا ہے مری چاہت کا خط ہو تم چھپا کر ساتھ رکھنا ہے مرے آنگن میں ٹھہرے ہیں تمہاری یاد کے سائے تمہارے آنے تک دل سے لگا کر ساتھ رکھنا ہے کہانی کی طرح تم کو سنا سکتی نہیں سب کو تمہیں گیتوں کے جیسے گنگنا کر ساتھ رکھنا ہے سجانا ہے کبھی ہاتھوں میں مہندی کی طرح تجھ کو کبھی آنکھوں میں کاجل سا سما کر ساتھ رکھنا ہے میں تتلی کی طرح ہوں پھول کے جیسا ہے تو ہمدم میں دل ہوں سو تجھے دھڑکن بنا کر ساتھ رکھنا ہے سفر مشکل بہت ہے اور منزل دور ہے اپنی ہمیں مشکل کو ہی ہمت بنا کر ساتھ رکھنا ہے
jo tu zindagi mein na mil sakaa mujhe is kaa koi gila nahin
جو تو زندگی میں نہ مل سکا مجھے اس کا کوئی گلہ نہیں ہے گلہ نصیب میں پھر کبھی بھی وفا کا پھول کھلا نہیں میں رہوں گی سنگ سدا ترے تو جہاں رہے مرے ہم سفر مرا آشیاں ترے دل میں ہے مری چاہ کوئی قلعہ نہیں مری حسرتیں مرے ساتھ ہی تجھے یاد کر کے ہیں تھک گئیں تری خامشی ہے سزا مجھے مرے پیار کا یہ صلہ نہیں یہ جو خواب ہے مری آنکھ میں ترے دم سے ہے یہ بنا ہوا ترا عکس آنکھ کی جھیل میں کئی مدتوں سے ہلا نہیں مرا پیار تم تو نصیب ہو مری زندگانی کا نور ہو میں جہان بھر میں تلاش کی مجھے تم سا کوئی ملا نہیں





