
Arzoo Ashraf Sultanpuri
Arzoo Ashraf Sultanpuri
Arzoo Ashraf Sultanpuri
Ghazalغزل
vo chaand jo chilman mein chhupaa hai bhi nahin bhi
وہ چاند جو چلمن میں چھپا ہے بھی نہیں بھی کچھ اس نے ستاروں سے کہا ہے بھی نہیں بھی رہ رہ کے چمکتے ہیں تیری یاد کے جگنو جیسے کہ اندھیروں میں دیا ہے بھی نہیں بھی مقتول نے خود رکھی تھی شمشیر پہ گردن بس اس لئے قاتل کی خطا ہے بھی نہیں بھی دیتا ہے جو منصور انا الحق کی صدائیں وہ ذات کبھی ذات خدا ہے بھی نہیں بھی منہ پر تو موافق ہے پس پشت مخالف دشمن جو مرا ہے وہ سگا ہے بھی نہیں بھی یہ نیم نظر نیم نگاہی کا اثر ہے جو تیر نظر دل میں چبھا ہے بھی نہیں بھی
ye chaahte hain ki jaam-e-ulfat kaa zehn-o-dil se asar na jaae
یہ چاہتے ہیں کہ جام الفت کا ذہن و دل سے اثر نہ جائے پلا دو ہم کو پھر اس سے پہلے نشہ ہمارا اتر نہ جائے ہمیں سے ہے میکدے کی رونق ہمیں سے سارا نظام رنداں یہ کیسے ممکن ہے ساقیا اب ہمارے اوپر نظر نہ جائے تمہاری خاطر ہی راستوں پر بچھا کے رکھی ہیں ہم نے آنکھیں چلے بھی آؤ کہ بن تمہارے یہ موسم گل گزر نہ جائے ورق ورق پر تمہارا چرچا تمہاری یادیں تمہاری باتیں بڑی حفاظت سے رکھ رہا ہوں کتاب دل ہے بکھر نہ جائے میں چاہتا ہوں کہ تم سے کہہ دوں مگر یہ مجھ سے نہ ہو سکے گا یہ دل کے اظہار کا پرندہ قفس کے اندر ہی مر نا جائے تمہارے در سے میں اپنا سر بھی تبھی اٹھاؤں گا جان جاناں کہ جب تلک آرزوؔ کا بگڑا ہوا مقدر سنور نہ جائے
gumaan jitnaa thaa saaraa gumaan TuuT gayaa
گمان جتنا تھا سارا گمان ٹوٹ گیا غم فراق میں دل کا مکان ٹوٹ گیا تمہیں ملال ہے بس چھت کے بیٹھ جانے کا ہمارے سر پہ تو اک آسمان ٹوٹ گیا تری انا کو بھی تسکین مل گئی ہوگی جو سہتے سہتے ستم بے زبان ٹوٹ گیا ترے مذاق کی ہلکی سی ایک ٹھوکر سے دیار اشک کا اک مرتبان ٹوٹ گیا میں راہ عشق میں اب اور چل نہ پاؤں گا جو حوصلہ ہی مرا میری جان ٹوٹ گیا پرندہ دل کا کہاں جا کے آرزوؔ بیٹھے محبتوں کا جو ہر سو مچان ٹوٹ گیا
'aarzu' jaane bhi kaise koi rutba maan kaa
آرزوؔ جانے بھی کیسے کوئی رتبہ ماں کا روئے جنت سے حسیں لگتا ہے تلوا ماں کا خود تو بھوکی ہے کھلاتی ہے مگر بچوں کو میں تو قربان گیا دیکھ کے فاقہ ماں کا بھول بیٹھا وہ جواں ہو کے سبھی احسانات جو کبھی اوڑھ کے سوتا تھا دوپٹہ ماں کا ساری الجھن مری پل بھر میں سلجھ جاتی ہے سامنے جب مرے آ جاتا ہے چہرہ ماں کا دن میں تارے نظر آ جاتے ہیں ان کو اکثر آرزوؔ جن کے سروں پر نہیں سایا ماں کا
aap se kis ne kahaa hai ki mohabbat kariye
آپ سے کس نے کہا ہے کہ محبت کریے آپ تاجر ہیں مرے غم کی تجارت کریے بے وضو عشق کی تکمیل ہے توہین صنم کر رہے ہیں تو سلیقے سے عبادت کریے عشق میں کفر کہا جاتا ہے شکوہ کا عمل اس لئے سوچ سمجھ کر ہی شکایت کریے سر کی خواہش ہے تو ہم اہل جنوں دے دیں گے آپ تلوار اٹھانے کی نہ زحمت کریے اب کہاں ملتا ہے دیوانہ کوئی صحرا میں گر مقدر سے وہ مل جائے تو عزت کریے کان میں سیسۂ غم گھول کے فرماتے ہیں قصۂ عشق میری جان سماعت کریے دیدۂ نم پہ بچھا کر ہی مصلیٰ دل کا اشک بن کر مرے جذبوں کی امامت کریے
ik na ik din jo kabhi mujh se mohabbat hogi
اک نہ اک دن جو کبھی مجھ سے محبت ہوگی دیکھ لینا تمہیں خود اپنے پہ حیرت ہوگی جانے کب آئیں گے وہ زخم جگر پر ہنسنے جانے کس روز مرے درد میں برکت ہوگی رشک انگیز ہے فردوس تری آنکھوں پر اس سے بہتر بھی بھلا کیا کوئی جنت ہوگی ایک بس تیری طلب ہے تجھے پا لوں جاناں پھر کسی شے کی کہاں مجھ کو ضرورت ہوگی شکوۂ عشق پہ اتنے بھی پریشان ہیں کیوں آپ اپنے ہیں تو لازم ہے شکایت ہوگی





