SHAWORDS
Asad Raza Sahar

Asad Raza Sahar

Asad Raza Sahar

Asad Raza Sahar

poet
19Ghazal

Ghazalغزل

See all 19
غزل · Ghazal

aziyyat-naak hotaa hai kisi ke hijr mein rahnaa

اذیت ناک ہوتا ہے کسی کے ہجر میں رہنا خوشی جتنی بھی مل جائے میں غم محسوس کرتا ہوں کسی کے ہجر میں آنکھوں کو روئے عمر گزری ہے مگر اس آنکھ کو اب تک میں نم محسوس کرتا ہوں مری ہر اک خوشی تم سے مری رگ رگ میں بہتے ہو فقط تیرا ہی میں ہمدم الم محسوس کرتا ہوں عقیدت اور الفت سے میں جب مسجد کو جاتا ہوں میں اس کچی سی مسجد کو حرم محسوس کرتا ہوں الگ یہ بات ہے اب تک مدینے جا سکا نہ میں مگر ان کا میں خود پر سب کرم محسوس کرتا ہوں ہمارے درمیاں جب سے رویوں کی چھڑی ہے جنگ اگر وہ آپ بھی کہہ لے میں تم محسوس کرتا ہوں ہر اک نیکی کا بدلہ لاکھ نیکی ہے سحرؔ اس ماہ عبادت جتنی کر لوں پھر بھی کم محسوس کرتا ہوں

غزل · Ghazal

ik khaak-zaada chalne lagaa laa-ilaah ki samt

اک خاک زادہ چلنے لگا لا الہ کی سمت یعنی کہ گامزن میں ہوا کربلا کی سمت مجھ کو کسی طبیب سے کوئی غرض نہیں بیمار پڑ کے آتا ہوں خاک شفا کی سمت جب منتظر تھے حر کے وہاں پر حسین خود کیسے فنا سے آتا نہ پھر حر بقا کی سمت کرب و بلا میں جاتا ہوں آنکھوں میں نم لیے نعرہ لگا کے جاتا ہوں مشکل کشا کی سمت مولا تمہارا غم بھی منانے کو یہ ملک عرش بریں سے آتے ہیں فرش عزا کی سمت کیسے بھلا نہ روئیں اسے دیکھ کر حسین غازی سا شیر بھائی چلا القمہ کی سمت دیکھو غزل سے مرتبہ اس کا بلند ہے چھوڑو غزل کو آؤ سحرؔ مرثیہ کی سمت

غزل · Ghazal

chhup kar royaa jaa saktaa hai

چھپ کر رویا جا سکتا ہے دل بہلایا جا سکتا ہے آدم زادے عشق کی رہ میں کام بھی آیا جا سکتا ہے دن کو گرہن لگ سکتا ہے دھوپ میں سایہ جا سکتا ہے عزت ملنا مشکل ہے پر نام کمایا جا سکتا ہے نمک حرامی مادہ ہے جو خون میں پایا جا سکتا ہے آنسو پانی ہے پر اس سے شہر جلایا جا سکتا ہے غربت میں گر بھوک لگے تو پتھر کھایا جا سکتا ہے پیاسے لشکر کے پانی میں زہر ملایا جا سکتا ہے ویسے ملنا نا ممکن ہے خواب میں آیا جا سکتا ہے اس بستی میں چپ رہ کر بھی شور مچایا جا سکتا ہے خود سے تیرے چھیڑ کے قصے جی للچایا جا سکتا ہے تیرے ایک اشارے پر بھی سحرؔ منایا جا سکتا ہے

غزل · Ghazal

aaj mujh ko bhi mire ahbaab dhoka de gae

آج مجھ کو بھی مرے احباب دھوکہ دے گئے میں توانا شخص تھا اعصاب دھوکہ دے گئے گاؤں کی کچھ لڑکیاں اپنے گھڑے بھرنے گئیں خشک تھا پانی وہاں تالاب دھوکہ دے گئے جو نظر آتے تھے اکثر ان جبینوں پر تجھے کیا کریں ماتھے کے وہ محراب دھوکہ دے گئے اپنے ہاتھوں سے کھلاتا تھا مگر وہ اڑ گئے آج مجھ کو وہ مرے سرخاب دھوکہ دے گئے میں معافی چاہتا ہوں مجھ سے غلطی ہو گئی کچھ بھی مشکل تھا نہیں اعراب دھوکہ دے گئے آج سے میں ہجر کاٹوں گا تسلی سے سحرؔ جو کبھی دیکھے تھے میں نے خواب دھوکہ دے گئے

غزل · Ghazal

hur kah rahe hain aag se maulaa nikaal dein

حر کہہ رہے ہیں آگ سے مولا نکال دیں عاصی ہوں میرا نام شہیدوں میں ڈال دیں مقتل میں الاماں کا ہے اب شور چار سو مجھ کو سخی یہ تیر کماں اور ڈھال دیں آل نبی بھی ناز کرے اس کے بخت پر اپنا وہ جس کے واسطے بی بی رومال دیں آنسو بہا کے حضرت حر نے یہی کہا عباس با وفا مجھے اوج کمال دیں لکھتا ہے یہ قصیدے شب و روز آپ کے مولا سحرؔ کے فن کو سند لا زوال دیں

غزل · Ghazal

ki jaae chhup ke aisi yahaan ghaaebaana baat

کی جائے چھپ کے ایسی یہاں غائبانہ بات سرحد کے پار پہنچے نہ یہ کافرانہ بات محفل یہاں سجی ہے مگر تو نہیں یہاں تیری بھی کاش ہوتی کوئی معجزانہ بات اس کو کوئی شغف ہی کہاں شاعری سے ہے محفل میں کیسے کرتے رہے شاعرانہ بات دیکھو تو ایک عام سا کم فہم سا وہ ہے دہرا رہا ہے آج بھی اس کی زمانہ بات حاصل تو کچھ نہ ہوگا تمہیں مار پیٹ سے کرتے ہیں سارے مل کے کوئی دوستانہ بات اکثر میں تجھ سے بات یہی کہتا ہوں سحرؔ غصے کو چھوڑ کر کوئی اب عاجزانہ بات

Similar Poets