
Aseem Ahmad Abbasi
Aseem Ahmad Abbasi
Aseem Ahmad Abbasi
Ghazalغزل
کریں سجدہ تمہیں ہم کس خوشی میں سمندر گر نہیں سکتا ندی میں بہت خاموش رہتا ہے وہ اکثر کوئی تو بات ہے اس آدمی میں گئی وہ عمر جس میں خاص تھے تم سبھی دکھتے ہیں اب مجھ کو سبھی میں زمانہ خوش ہے کھو کر راہ اپنی نہیں رکھا ہے اب کچھ رہبری میں اندھیروں کو وہ کیا الزام دیں گے ہے جن کا ہاتھ چھوٹا روشنی میں نہیں ہوتا رہا کچھ بھی کبھی بھی یہی ہوتا رہا بس زندگی میں
karein sajda tumhein ham kis khushi mein
دل افسردہ کسی گام ٹھہر جائے گا وہ بھی کچھ روز میں رو دھو کے سنور جائے گا لاکھ شدت سہی صدمے کی مگر یوں ہے کہ آدمی وقت کے ہم راہ گزر جائے گا ابتدا ہو یا ہو انجام سفر کا یارو راستہ جس بھی طرف جائے گا مڑ جائے گا ریل چیخے گی تجھے رات جو لے جاتے ہوئے گاؤں کی بات ہی کیا دل بھی سہر جائے گا زندگی کا یہ سفر لاکھ ہے دل جو لیکن جو مسافر ہے کسی روز تو گھر جائے گا اور بتلائیں کیا جینے کا سبب ہم اپنے پھول خوشبو کو بکھیرے گا بکھر جائے گا
dil-e-afsurda kisi gaam Thahar jaaegaa





