Asghar Ali Abbas
dasht hain nauha-kunaan shahr ki viraani par
دشت ہیں نوحہ کناں شہر کی ویرانی پر کس نے اس شہر کی بنیاد رکھی پانی پر اک شرر بھید کے مانند چھپا ہے دل میں ایک وہ رنج کہ ظاہر نہیں پیشانی پر حبس کی رت میں چلے سانس غنیمت سمجھو نور کی ایک کرن چاند ہے زندانی پر کون جانے کہ یہ اسرار کھلیں گے کیسے کوئی رنجور نہ ہو بے سر و سامانی پر تیرگی اور بڑھی جاتی ہے رفتہ رفتہ آج کیوں رات کمر بستہ ہے عریانی پر جسم کی حد سے پرے کوئی کھڑا سوچتا ہے کیسے اب ریت کی دیوار بنے پانی پر آسماں تیری لحد کھود رہا ہے کوئی اب زمیں اور کسے لائے نگہبانی پر اس فسوں کار محبت میں یہی ہوتا ہے ہونٹ خاموش رہیں آنکھ ہو طغیانی پر