
Asghar Hasan Mujibi
Asghar Hasan Mujibi
Asghar Hasan Mujibi
Ghazalغزل
دل سے جوش شباب جاتا ہے زیست سے اضطراب جاتا ہے رخ پہ ڈالے نقاب جاتا ہے ابر میں ماہتاب جاتا ہے جانے کو تو شباب جاتا ہے کر کے مٹی خراب جاتا ہے اپنا عہد شباب جاتا ہے سر سے سارا عذاب جاتا ہے رخ روشن پہ آئی ہیں زلفیں ثور میں آفتاب جاتا ہے دیکھیں گرتی ہیں بجلیاں کس پر رخ سے سرکا نقاب جاتا ہے فکر عالم سے ہو کے اب آزاد دل سے خانہ خراب جاتا ہے اس طرح جا رہا ہوں میں اصغرؔ جیسے سرمست خواب جاتا ہے
dil se josh-e-shabaab jaataa hai
تری طلب میں مجھے شرمسار ہونا تھا رہین منت لیل و نہار ہونا تھا جو مبتلائے غم روزگار ہونا تھا تو دل پہ اپنے ذرا اختیار ہونا تھا فراق گل میں اگر دل فگار ہونا تھا تو ہر کلی کو مرا غم گسار ہونا تھا جو مجھ کو وقف غم انتظار ہونا تھا تو عہد و فعل کا کچھ اعتبار ہونا تھا تمہیں تو جلوہ فگن بار بار ہونا تھا کہ اس جہاں کو ذرا سازگار ہونا تھا
tiri talab mein mujhe sharmsaar honaa thaa
نگاہ ناز سے راز و نیاز رہنے دے تبسم نگہ دل نواز رہنے دے غم فراق سے دل کو گداز رہنے دے جہان عشق میں کچھ سوز و ساز رہنے دے فریب خوردۂ حسن مجاز رہنے دے اسی طرح سے حقیقت کو راز رہنے دے اٹھا نہ چہرۂ ہستی سے تو نقاب اپنی نگاہ و دل کو یوں ہی مشق ناز رہنے دے اگر یہ اصل حقیقت کے دونوں پہلو ہیں تو حسن و عشق کا پھر امتیاز رہنے دے نگاہ لطف و کرم مجھ پہ گر نہیں نہ سہی ستم سے اپنے مجھے سرفراز رہنے دے
nigaah-e-naaz se raaz-o-niyaaz rahne de





