
Asha Parbhat
Asha Parbhat
Asha Parbhat
Ghazalغزل
گزشتہ خواب کے منظر ستانے لگتے ہیں بھلائیں کیسے وہ آنکھوں میں آنے لگتے ہیں لرزتے کانپتے ہونٹوں پہ اس کے نام مرا یہ بات مجھ سے وہ اکثر چھپانے لگتے ہیں بھلاؤں کیسے میں بیتے دنوں کی یاد بھلا کتاب دل کے ورق پھڑپھڑانے لگتے ہیں بہار آنے کو آئی ہے گلستاں میں مگر یہ پھول پھول بدن دل جلانے لگتے ہیں خدا بچائے انہیں آفتوں کے جھٹکے سے جو دیکھتے ہی مجھے مسکرانے لگتے ہیں
guzishta khvaab ke manzar sataane lagte hain
دیر و حرم بھی آئے کئی اس سفر کے بیچ میری جبین شوق ترے سنگ در کے بیچ کچھ لذت گناہ بھی ہے کچھ خدا کا خوف انسان جی رہا ہے اسی خیر و شر کے بیچ یہ خواہش وصال ہے یا ہجر کا سلوک چٹکی سی لی ہے درد نے آ کر جگر کے بیچ بچھڑے تو یہ ملال کی سوغات بھی ملی تاکید تھی خیال نہ آئے سفر کے بیچ خوشبو کی طرح لفظ تھے معنی بہ قید رنگ یہ مرحلے بھی آئے ہیں عرض ہنر کے بیچ دلہن بنی تھی آشاؔ وہ شب یاد ہے مجھے گم تھے مرے حواس ہجوم نظر کے بیچ
dair-o-haram bhi aae kai is safar ke biich
ہر لمحہ چاند چاند نکھرنا پڑا مجھے ملنا تھا اس لئے بھی سنورنا پڑا مجھے آمد پہ اس کی پھول کی صورت تمام رات ایک اس کی رہ گزر پہ بکھرنا پڑا مجھے کیسی یہ زندگی نے لگائی عجیب شرط جینے کی آرزو لئے مرنا پڑا مجھے ایسے تو میری راہوں میں پڑے تھے میکدے واعظ تیری نگاہوں سے ڈرنا پڑا مجھے آئینہ ٹوٹ کر مجھ میں سما گیا اور ریزہ ریزہ ہو کے بکھرنا پڑا مجھے
har lamha chaand chaand nikharnaa paDaa mujhe
تجھے ہر گلی ہر نگر ڈھونڈتے ہیں نہیں کچھ بھی حاصل مگر ڈھونڈتے ہیں بنا دے جو صحرا کو پھر سے گلستاں ہم ایسی نسیم سحر ڈھونڈتے ہیں لٹے آشیانوں کے آوارہ پنچھی نہ جانے کہاں اپنا گھر ڈھونڈتے ہیں ہر اک درد دل کو زباں دے سکے جو ہم اشکوں میں بس وہ اثر ڈھونڈتے ہیں نئے دور کا ہے مقدر اندھیرا مگر پھر بھی آشاؔ سحر ڈھونڈتے ہیں
tujhe har gali har nagar DhunDte hain
رات آئی تو تڑپنے کے بہانے آئے اشک آنکھوں میں تو ہونٹوں پہ ترانے آئے پھر تصور میں ہی ہم روٹھ کے بدلے پہلو پھر خیالوں میں ہی وہ ہم کو منانے آئے ان کے کوچے میں جو اک عمر گزاری ہم نے یہ کہانی بھی وہ غیروں کو سنانے آئے یہ بھی سچ ہے کہ ہر اک زخم ملا ہے ان سے اور وہی چپکے سے مرہم بھی لگانے آئے جذبۂ دید تصور کو اٹھائے آشاؔ اپنی آنکھوں میں لیے خواب پرانے آئے
raat aai to taDapne ke bahaane aae
ہر لمحہ چاند چاند نکھرنا پڑا مجھے ملنا تھا اس لئے بھی سنورنا پڑا مجھے آمد پہ اس کی پھول کی صورت تمام رات ایک اس کی رہ گزر پہ بکھرنا پڑا مجھے کیسی یہ زندگی نے لگائی عجیب شرط جینے کی آرزو لئے مرنا پڑا مجھے ویسے تو میری راہوں میں پڑتے تھے میکدے واعظ تری نگاہ سے ڈرنا پڑا مجھے آئینہ ٹوٹ ٹوٹ کے مجھ میں سما گیا اور ریزہ ریزہ ہو کے بکھرنا پڑا مجھے
har lamha chaand chaand nikharnaa paDaa mujhe





