Ashfaq Rehbar
Ashfaq Rehbar
Ashfaq Rehbar
Ghazalغزل
حادثے زیر و بم پیچ و خم راہ دیکھ گاہ چل گاہ رک گاہ مڑ گاہ دیکھ طول فہرست حاجات کچھ رحم کر میری مشکل سمجھ میری تنخواہ دیکھ بزدلوں کی طرح چھپ کے حملہ نہ کر اپنے دشمن کو بھی کر کے آگاہ دیکھ جس کو آنا نہ ہو وہ نہیں آئے گا ایک دو دن نہیں چار چھ ماہ دیکھ اپنی اوقات کا جائزہ لے ذرا اس کی زیبائش و منصب و جاہ دیکھ کچھ تمیز عیوب و محاسن نہیں ہے نظر تیری کس درجہ کوتاہ دیکھ
haadse zer-o-bam pech-o-kham raah dekh
جن لغزشوں کے دہر میں جھنڈے بلند ہیں ایوان زندگی کے وہی نقشبند ہیں بے سائیگی نے ہم کو بنایا ہے تیز گام ہم لوگ سوکھے پیڑوں کے احسان مند ہیں لفظوں کے قحط ہی کی نوازش کہیں اسے تابوت ذہن میں جو خیالات بند ہیں تو اپنا مال پہلے حریصوں میں بانٹ دے کیا ہے ہمارا ہم تو قناعت پسند ہیں اس قید ہی میں وسعت دونوں جہاں ملی یہ سوچ کر ہی آج بھی ہم خود میں بند ہیں
jin laghzishon ke dahr mein jhanDe buland hain
غم تو تھا پھر بھی بے شمار نہ تھا نیزہ سینے کے آر پار نہ تھا میرے گرنے پہ کیوں ہے استعجاب میں تو ویسے بھی شہسوار نہ تھا وہ جو پھرتا تھا لے کے شیر کی کھال اس کا مارا ہوا شکار نہ تھا کیسے رشتے ہیں اس کی موت کے بعد خون خود اس کا سوگوار نہ تھا ہم بھی سیراب ہو چکے ہوتے مطلع بخت ابر بار نہ تھا سخت جانی رہی بہانہ ہے تیرا خنجر ہی آب دار نہ تھا میں لدا تھا چلا وہ چل نہ سکا اس پہ حالانکہ کوئی ہار نہ تھا
gham to thaa phir bhi be-shumaar na thaa





