
Ashhar Nadeemi
Ashhar Nadeemi
Ashhar Nadeemi
Ghazalغزل
جو دل پہ ہوا ہے وہ ستم بول رہا ہے تم چپ ہو مگر دیدۂ نم بول رہا ہے کب جاگو گے تم نیند سے اے نیند کے ماتو یہ وقت کوئی بات اہم بول رہا ہے بربادیٔ ملت کے ہیں آثار نمایاں ہر شخص ہر اک بات میں ہم بول رہا ہے معصوم ترے ہونٹوں پہ مذموم یہ باتیں لہجے میں ترے جاہ و حشم بول رہا ہے ہم لوگ بھٹک آتے ہیں اے راہنماؤں رستے کا ہر اک نقش قدم بول رہا ہے اس شخص سے تقدیر وفا کر گئی شاید اس واسطے دنیا کو ارم بول رہا ہے ہونٹوں پہ مرے مہر خموشی ہے مگر وہ میں کہہ نہیں سکتا جو قلم بول رہا ہے
jo dil pe huaa hai vo sitam bol rahaa hai
سوچ لے تو بھی ذرا روٹھ کے جانے والے انگلیاں ہم پہ اٹھائیں گے زمانے والے عشق کے شہر میں آنا ہے تو یہ سوچ کے آ راستے اس میں نہیں لوٹ کے جانے والے تم مجھے بھول گئے میں بھی تمہیں بھول گیا آج خوش ہوں گے بہت ہم سے زمانے والے شوخ نظریں بھی نہیں لب پہ تبسم بھی نہیں ڈھنگ کیا ہو گئے وہ دل کو لبھانے والے جانے کیا سوچ کے رو دیتے ہیں کس کو معلوم تربت خواب پہ یہ پھول چڑھانے والے کتنے سنگین مقاموں سے گزرتے ہوں گے دل میں اک شمع محبت کی جلانے والے ہائے کیوں پھوٹ گیا میرا مقدر اشہرؔ ہائے کیوں روٹھ گئے مجھ کو منانے والے
soch le tu bhi zaraa ruuTh ke jaane vaale
اپنی کوشش کو جو فانوس بنا رکھتے ہیں وہ ہواؤں میں چراغوں کو جلا رکھتے ہیں خود کو ہم صبح و مسا پیش خدا رکھتے ہیں سانس کے تار میں احساس قضا رکھتے ہیں بے جھجک اٹھتے ہیں منزل کی طرف اپنے قدم خضر سا ہم بھی کوئی راہنما رکھتے ہیں یہ صدی وہ ہے کہ انسان ہے خود سے بیزار لوگ اب کس کے لیے دل میں جگہ رکھتے ہیں اپنے بیگانوں سے آزاد ہے اپنی فطرت آبلہ پا ہو کوئی ہم تو حنا رکھتے ہیں کیوں نہ اظہار کریں دی ہے ہنر کی دولت کیوں نہ اقرار کریں ہم بھی خدا رکھتے ہیں بات اگر عام بھی ہو خاص ادا سے اشہرؔ آپ تحریر کا انداز جدا رکھتے ہیں
apni koshish ko jo faanus banaa rakhte hain
میرے کمرے سے ترے خط جو پرانے نکلے چند لمحوں میں کئی گزرے زمانے نکلے جو نہیں ملتا اسے ڈھونڈ کے لانے نکلے ایسا لگتا ہے کہ ہم خود کو گنوانے نکلے میری آنکھوں میں سماعت کی صفت جاگ اٹھی تیری خاموشی سے باتوں کے خزانے نکلے یہ اگر خواب نہیں ہے تو کہو پھر کیا ہے نیند میں جو ہیں وہ دنیا کو جگانے نکلے دل بھٹکنے لگا ماضی کی گزر گاہوں میں باتوں باتوں میں تمہارے جو فسانے نکلے یہ حسیں ہونٹ یہ رخسار یہ آنکھیں یہ بدن پارساؤں کے بھی تم ہوش اڑانے نکلے لوگ کہتے تھے میں جس راہ میں مر جاؤں گا بس اسی راہ سے جینے کے بہانے نکلے
mere kamre se tire khat jo puraane nikle
حق جو بھی ہے وہ دامن حق دار میں آئے اتنا تو سلیقہ کبھی سرکار میں آئے لوگوں میں محبت نہ مروت نہ شرافت کیوں آپ بھی اس شہر ستم گار میں آئے گفتار سے اخلاص جھلکتا تو ہے لیکن اخلاص اگر ہے تو وہ کردار میں آئے یہ رعب جمال اور یہ ترا حسن ستم خیز کیا طاقت اظہار طلب گار میں آئے تنگ آ کے شب و روز کے فاقوں سے یہ فنکار بکنے کے لیے دیکھیے بازار میں آئے
haq jo bhi hai vo daaman-e-haqdaar mein aae
آنکھوں سے تیری نیند پرایا کریں گے ہم اکثر ترے خیال میں آیا کریں گے ہم دھوکا اگر ہے پیار تو دھوکا ہی یہ سہی دھوکا ہزار بار یہ کھایا کریں گے ہم آنا نہ آنا یہ تری مرضی کی بات ہے لیکن تمام عمر بلایا کریں گے ہم ایسا نہ ہو کہ دل سے تری یاد ہو خفا ہر آرزو سے دل کو بچایا کریں گے ہم سوچا ہے تیرے نام ہی کر دیں گے زندگی وعدہ سمجھ کے اس کو نبھایا کریں گے ہم
aankhon se teri niind paraayaa kareinge ham





