
Ashk Amritsari
Ashk Amritsari
Ashk Amritsari
Ghazalغزل
کشمکش میں ہیں تری زلفوں کے زندانی ہنوز تیرگی پیہم ہے خم در خم پریشانی ہنوز رکھتے ہیں ہم مقصد تعمیر نو پیش نظر گرچہ ہیں منجملۂ اسباب ویرانی ہنوز سطح دریا پر سکوں سا ہے مگر اے سطح بیں قعر و دریا میں وہی موجیں ہیں طوفانی ہنوز اب جنوں میں بھی نہیں آتا ہے صحرا کا خیال شہر حکمت میں ہے وحشت خیز ویرانی ہنوز پرسش اہل قلم ہو یا نہ ہو ہوتی تو ہے سنگ مرمر کے مزاروں پر گل افشانی ہنوز ہم نے رکھ دی قالب اشعار میں چیز دگر تم نہیں کر پائے تکمیل زباں دانی ہنوز اشکؔ اصول کسب زر سے تو نہیں ہے آشنا تشنۂ تکمیل ہے تیری ہمہ دانی ہنوز
kashmakash mein hain tiri zulfon ke zindaani hanuz
قید ہستی میں ہوں اپنے فرض کی تعمیل تک اک نئی دنیا نئے انسان کی تشکیل تک دام ہم رنگ زمیں پھیلا دیا صیاد نے وادیٔ گنگ و جمن سے رود بار نیل تک آنکھ سے بہہ جائے گا دل میں اگر باقی رہا قطرۂ خوں داستان درد کی تکمیل تک شاعری کا ساز ہے وہ ساز ہو جس ساز میں نغمۂ روح الامیں سے بانگ اسرافیل تک تو ہی اسرار سخن سے ہے ابھی نا آشنا ورنہ اس اجمال میں موجود ہے تفصیل تک بس نہیں چلتا ہے ان کا ورنہ یہ ظلمت پرست اپنی پھونکوں سے بجھا دیں عرش کی قندیل تک اشکؔ اپنے سینۂ پر خوں میں سیل اشک بھی روک رکھتا ہوں جگر کے خون کی تحلیل تک
qaid-e-hasti mein huun apne farz ki taamil tak
یہ کشتیٔ حیات یہ طوفان حادثات مجھ کو تو کچھ خبر نہ رہی آر پار کی ہے گردش زمانہ میں دو رنگیٔ حیات امید کی سحر ہے تو شب انتظار کی یہ دیر یہ حرم یہ کلیسا یہ سومنات تعریف کیا ہو قدرت پروردگار کی ہے کون جو اٹھا سکے بار غم حیات ہم نے بھی گر قبائے خرد تار تار کی اللہ رے تصادم حالات و حادثات کی اختیار سنگ نے صورت شرار کی ذروں کی آب و تاب سے تاروں نے کھائی مات یہ خوبیاں ہیں خاک ترے انکسار کی اے اشکؔ زندگی میں نہ پوچھی کسی نے بات اب خاک چومتے ہیں ہمارے مزار کی
ye kashti-e-hayaat ye tufaan-e-haadsaat





