
Ashraf Jahangeer
Ashraf Jahangeer
Ashraf Jahangeer
Ghazalغزل
lipaT rahi hain salaakhein hamein judaa na karo
لپٹ رہی ہیں سلاخیں ہمیں جدا نہ کرو جو قید کر ہی لیا ہے تو پھر رہا نہ کرو نہ جانے کون ہو مخبر یہاں پہ حاکم کا بغاوتوں کے لیے سب سے یوں کہا نہ کرو کہیں محال نہ ہو جائے مسکرانا بھی کسی کے عشق میں ہو اس کا تذکرہ نہ کرو پرندے کھڑکی پہ بیٹھے ہیں کام پر جائیں تم اتنی دیر سے اے جان من اٹھا نہ کرو منع بھی کرتے ہو پھر خود ہی چوم لیتے ہو منع کیا نہ کرو یا تو پھر کیا نہ کرو ہر ایک شخص یہاں بس خبر ہی ڈھونڈھتا ہے ہمارا نام بھی یوں ہی کہیں لیا نہ کرو
main ne puchhaa thaa ki baarish bhi kahin hoti hai
میں نے پوچھا تھا کہ بارش بھی کہیں ہوتی ہے کھول کے زلف وہ بولے کہ یہیں ہوتی ہے ایک چہرہ ہے جسے دیکھ نہیں پاتا ہوں ہار ایسی ہے کہ برداشت نہیں ہوتی ہے ڈھونڈھنا ہم کو وہیں اس نے جہاں چھوڑا ہو اس کی رکھی ہوئی ہر چیز وہیں ہوتی ہے ہم مسیحا تھے سبھی کے سو رہے تنہا ہم کیمرے کی کوئی تصویر کہیں ہوتی ہے خواہشیں آپ کی ڈکورتھ لوئس جیسی ہیں دل ناداں کو سمجھ اس کی نہیں ہوتی ہے
aap ke shahr mein bhaTkeinge yaa mar jaaeinge
آپ کے شہر میں بھٹکیں گے یا مر جائیں گے ہم کو لگتا نہیں ہم لوٹ کے گھر جائیں گے بے ایمانی سے پرے دنیا بنانی ہے ہمیں ہم نہ جائیں گے جدھر اہل نظر جائیں گے آپ کا کیا ہے کہیں اور لگا لیں گی دل جان من یہ مرے اشعار کدھر جائیں گے کیا کریں اتنی حسیں ہے تری دنیا مولیٰ ورنہ سوچا تو یہی تھا کہ سدھر جائیں گے ہم نے سوچا تھا یہی ہم نہیں سوچیں گے کبھی اب تو لگتا ہے اسی سوچ میں مر جائیں گے اتنے احسان تو فرہاد کے اشرفؔ پر ہیں سب کو ڈر ہے یہ جو کہتے ہیں وہ کر جائیں گے
abhi to dil ko ik bachcha banaa lenaa hai ro ro ke
ابھی تو دل کو اک بچہ بنا لینا ہے رو رو کے تمہیں پھر ایک دن اپنا بنا لینا ہے رو رو کے اگر آنسو نکلنے سے جگہ بنتی ہے آنکھوں میں تو آنکھوں میں ترا کمرا بنا لینا ہے رو رو کے یقیناً جرم سارے پہلے کر لینے ہیں جیتے جی پھر اپنے آپ کو اچھا بنا لینا ہے رو رو کے اگر آئے نہیں اے فارحا اب بھی تمہارے خط تو میں نے جونؔ سا حلیہ بنا لینا ہے رو رو کے سفر کو خوب صورت موڑ پر میں چھوڑ دوں ساحرؔ مگر رستے نے اک دریا بنا لینا ہے رو رو کے
tumhaare baad bhi sab pe yaqin karte hue
تمہارے بعد بھی سب پہ یقین کرتے ہوئے مریں گے ہم بھی کسی دن کسی پہ مرتے ہوئے کبھی تو دیکھ لے کھڑکی سے پاؤں کے چھالے گزر نہ جاؤں گلی سے کہیں گزرتے ہوئے تمہیں تو صرف مجھے چھپ کے دیکھنا ہے مگر مجھے تو دیکھنا ہے تم کو یہ بھی کرتے ہوئے وہ آئنہ سے اچانک وہیں لپٹنے لگی خیال میرا اسے آ گیا سنورتے ہوئے
nazar nazar hai nazar ain shiin qaaf nahin
نظر نظر ہے نظر عین شین قاف نہیں ملی ہے مجھ کو خبر عین شین قاف نہیں یہ غین میم تو جینا محال کر دے گا برابری میں اگر عین شین قاف نہیں یہ لکھ کے کاٹنا خط میں اب آپ بند کریں اگر مگر کا سفر عین شین قاف نہیں اداسی آنسو عداوت نصیحتیں رنجش بغیر پھل کا شجر عین شین قاف نہیں تمہارے بعد تو کٹ مر رہے ہیں آپس میں تمہارے بعد ادھر عین شین قاف نہیں اداسی دیکھ کے اشرفؔ کی رب نے فرمایا میں دل بناؤں گا پر عین شین قاف نہیں





