SHAWORDS
Ashraf Rafi

Ashraf Rafi

Ashraf Rafi

Ashraf Rafi

poet
15Ghazal

Ghazalغزل

See all 15
غزل · Ghazal

آپ کی بس دعا چاہیے کچھ نہ اس کے سوا چاہیے جو بنائے مقدر حسیں ماں کی ایسی دعا چاہیے اپنی پہچان کے واسطے ایک درپن نیا چاہیے ہم بھی تاریخ کا باب تھے بس اسی کی سزا چاہیے تم جہاں ساتھ میں لے چلو ساتھ اپنے خدا چاہیے کام کی انتہا کے لیے کام کی ابتدا چاہیے اور اعزاز بڑھتے گئے جرم کی تو سزا چاہیے ہم سفر ہوں اگر آپ بھی اور اشرفؔ کو کیا چاہیے

aap ki bas du'aa chaahiye

3 views

غزل · Ghazal

ہر ایک رخ سے مجھے لطف جستجو آئے ذرا وہ اور قریب رگ گلو آئے مآل ناز خودی کیا ہے یہ تو سمجھا دوں جسے ہو ناز خودی میرے روبرو آئے بغیر اذن ہی ساقی نے کر لیا قبضہ ہمارے واسطے جب ساغر و سبو آئے قدم قدم پہ ہے خوددارئ حیات کا ڈر مری زبان پہ کیا حرف آرزو آئے تری فضائے محبت ہو خوش گوار اتنی نفس نفس سے خلوص و وفا کی بو آئے ہمارے دل میں عداوت رہے گی کیا اشرفؔ نظر جھکائے ہوئے جب کوئی عدو آئے

har ek rukh se mujhe lutf-e-justuju aae

2 views

غزل · Ghazal

آئی بہاریں مہکا گلشن کلیاں چٹکیں مرجھایا من من ہی من میں یاد کے جھولے آنکھوں آنکھوں برسے ساون ہر تارا ہے اک چنگاری رات اندھیری کالی ناگن ہر دستوں میں ان کی مورت ذرہ ذرہ جیسے درپن دل میں بسیں آنکھوں میں براجیں گھر ہے جس کا اس کا آنگن جتنی پگ سے دور ہے دھرتی اتنے من کے پاس ہیں ساجن آس نراس کے سب دھوکے میں کیسی دوری کیسا درشن کس کا شکوہ کیجئے اشرفؔ اپنا من ہے اپنا دشمن

aai bahaarein mahkaa gulshan

1 views

غزل · Ghazal

قہر مجسم حسن مکرم آپ ہی شعلہ آپ ہی شبنم آپ نہ آئے یہ بھی نہ سوچا بزم میں کتنے دل ہوئے پر غم مان بھی لیتے ان کی باتیں لیکن کچھ آواز تھی مدھم آپ یہ آخر کیوں ہیں پشیماں آپ سے کچھ شاکی تو نہیں ہم یوں نہ جتاؤ اپنی بڑائی آپ کی ہستی خود ہے مسلم گونجتی ہیں اب تک کانوں میں باتیں ان کی تھیں یا سرگم سن نہ سکے اشرفؔ وہ ہماری بات تھی سچی ہو گئے برہم

qahr-e-mujassam husn-e-mukarram

1 views

غزل · Ghazal

نہیں شعور نظر کسی میں ہزاروں غم ہیں مری ہنسی میں نہیں ہے معیار کوئی باقی نہ دشمنی میں نہ دوستی میں نہ چھیڑ ان کو اے جذبۂ دل وہ رو پڑیں گے ہنسی ہنسی میں پیمبر تیرگی بھی اک دن ضرور آئیں گے روشنی میں ذرا کوئی راہبر سے کہہ دے کہ راز منزل ہے گمرہی میں مذاق محفل گرا ہوا ہے نہ ٹوٹے دل کوئی دل لگی میں بجھی ہوئی شمع ساتھ لے کر بھٹک رہے ہیں وہ تیرگی میں خدا کا عرفاں یہی ہے اشرفؔ کہ لطف آ جائے بندگی میں

nahin shuur-e-nazar kisi mein

1 views

غزل · Ghazal

ضرور چشم تماشا چمن پہ ناز کرے مگر بہار و خزاں میں تو امتیاز کرے مری حیات کا مقصد ہے صرف لذت غم کوئی یہ سلسلۂ غم ذرا دراز کرے جنوں کے دور میں ہو جس کو شوق گل چینی چمن میں کیسے وہ کانٹوں سے احتراز کرے یہی ہے خالق جذبات کا کرم شاید تمہیں خوشی سے ہمیں غم سے سرفراز کرے نہ کیجئے کسی گستاخیٔ جنوں کا ملال کسے ہے ہوش کہ فرق نیاز و ناز کرے رہ وفا میں تمنائے التفات ہے کفر جو جی میں آئے وہ حسن کرشمہ ساز کرے جبین شوق تو رکھ دی ہے میں نے در پہ ترے یہ تیرا کام ہے باب کرم بھی باز کرے سنا ہے راز حقیقت اسی حجاب میں ہے جو دیدہ ور ہو وہی عظمت مجاز کرے وہ کوئی دل نہیں پتھر ہے اصل میں اشرفؔ جو آدمی کو محبت سے بے نیاز کرے

zarur chashm-e-tamaashaa chaman pe naaz kare

1 views

Similar Poets