
Asif Anjum
Asif Anjum
Asif Anjum
Ghazalغزل
بھول کر تو سارے غم اپنے چمن میں رقص کر جاگ اے درویش جاں میرے بدن میں رقص کر ڈال کر چادر وفا کی تو مزار عشق پر دار منصوری پہ آ اس پیرہن میں رقص کر تو گریباں چاک جو نکلا ہے غم کی بھیڑ میں جا چلا جا چھوڑ سب تو اس کے من میں رقص کر بارگاہ حسن میں جھک کر سلامی پیش کر باندھ کر گھنگرو گلوں کے بانکپن میں رقص کر کس لیے جلنے نہیں دیتی چراغوں کو مرے اے ہوا تو جا کہیں کوہ و دمن میں رقص کر یہ رموز معرفت تجھ پر عیاں ہوں گے تبھی پی طریقت کا سبو اور اس اگن میں رقص کر
bhuul kar tu saare gham apne chaman mein raqs kar
ریت آنکھوں میں بھر گیا دریا کیسے آیا کدھر گیا دریا راستہ مل سکا نہ آنکھوں سے میرے اندر ہی مر گیا دریا میں تو پیاسا تھا خشک صحرا سا مجھ میں کیسے اتر گیا دریا اس کی آنکھوں کی دیکھ گہرائی خامشی سے گزر گیا دریا بات کتنی تھی مختصر اس کی وہ تو کوزے میں بھر گیا دریا پھر مقدر وہاں تھی بربادی جس طرف سے گزر گیا دریا دیکھنے کی تھیں اس کی موجیں پھر بات سے جب مکر گیا دریا دیکھ کر اس قدر تلاطم کو میری آنکھوں سے ڈر گیا دریا
ret aankhon mein bhar gayaa dariyaa
کیسا طلسم آج یہ طاری ہے جسم میں تیرا ورود شوق سے جاری ہے جسم میں تم بھی نہ جان پاؤ گے اس دل کا اضطراب تم نے تو ایک عمر گزاری ہے جسم میں اک سبز روشنی ہے جو گھیرے ہوئے مجھے آیت ضحی کی کس نے اتاری ہے جسم میں یہ میرا عشق ہے کہ جو زندہ ہے مجھ میں تو ورنہ تو ایک سانس بھی بھاری ہے جسم میں تب سے عجیب سوگ میں ڈوبا ہوا ہے دل کچھ خواہشوں نے جان جو ہاری ہے جسم میں پیران عشق کی یہ دعاؤں کا ہے اثر ہے زمزم محبتوں کا جو جاری ہے جسم میں شاید کہ تیری یاد کے مہکے ہیں پھول کچھ انجمؔ جو آج رقص خماری ہے جسم میں
kaisaa tilism aaj ye taari hai jism mein
صدائے قیس شوق دشت پیمائی نم دانم نہ جانے کون سی کل کھینچ کے لائی نمی دانم فقیروں کو مرے شاہانا خلعت سے نوازا ہے عقیدت ہے یا رنگ ذات آرائی نمی دانم کھڑے ہیں راستے میں ہاتھ باندھے پیڑ صف بستہ ہوا کیوں چاندنی کے دوش پر آئی نمی دانم وجود خاک سے لپٹے رہے پہلو کے انگارے بدن کی آگ جانے کیسے بجھ پائی نمی دانم درون سوز رندانہ درون آہ مستانہ بگوش یار تک کیسی صدا آئی نمی دانم
sadaa-e-qais shauq-e-dasht-paimaai nami-daanam
اک دن خود کو اپنے اندر پھینکوں گا میں شیشہ ہوں لیکن پتھر پھینکوں گا تو پھینکے گی جھیل میں پھول کلائیوں کے اور میں اپنی ذات کے کنکر پھینکوں گا تیری خوشبو بسی ہوئی ہر سلوٹ میں کھائی میں لے جا کر میں بستر پھینکوں گا خواب میں تیرے پھول بدن کو نوچوں گا اپنی چیخیں تیرے اندر پھینکوں گا میں چھینوں گا صحرا قیس قبیلے سے ریت کو پھر بادل کے منہ پر پھینکوں گا میک اپ کپڑے البم اور کتابیں بھی باندھ کے یادیں پار سمندر پھینکوں گا
ik din khud ko apne andar pheinkungaa





