SHAWORDS
A

Asif Izhar Ali

Asif Izhar Ali

Asif Izhar Ali

poet
6Ghazal

Ghazalغزل

غزل · Ghazal

chhoD kar teri miTTi kidhar jaaeinge

چھوڑ کر تیری مٹی کدھر جائیں گے اے وطن تجھ میں اک دن بکھر جائیں گے دور رہ کر جہاں سے گزر جائیں گے گھر جو آ جاؤ تم تو ٹھہر جائیں گے یوں نہ بکھرو ذرا حوصلہ تو رکھو دکھ بھرے دن کبھی تو گزر جائیں گے بھیج کر کچھ رقم بوڑھے ماں باپ کو قرض کیا پرورش کے اتر جائیں گے کتنی مدت سے گھر کو سجاتے ہو تم صرف دو دن کو ہی بچے گھر جائیں گے اس کی نظر عنایت ہے ہر شخص پر دن ہمارے بھی شاید سنور جائیں گے

غزل · Ghazal

bahut se ham ne samjhaute kiye hain

بہت سے ہم نے سمجھوتے کیے ہیں کسی کے ساتھ اب تک یوں جئے ہیں بہت ڈرتا ہے جو رسوائیوں سے مرے اشعار تو اس کے لئے ہیں ہمیں دیکھا تو اکثر چپکے چپکے تمہارے چرچے لوگوں میں ہوئے ہیں نہ جانے دور تک کیوں بات پہنچی لبوں کو آج تک ہم تو سیے ہیں اسے عادت ہے لیکن بھولنے کی کسی نے چند وعدے تو کئے ہیں جو دم بھرتے ہیں آصفؔ دوستی کا وہی اب ہاتھ میں خنجر لیے ہیں

غزل · Ghazal

dushmani mujh se aa nibhaa to sahi

دشمنی مجھ سے آ نبھا تو سہی میری حالت پہ مسکرا تو سہی آگ میں گھر گیا ہے پھر مومن معجزہ اے خدا دکھا تو سہی اک تعلق بنا رہے تجھ سے مت وفا کر مگر ستا تو سہی جی تو کرتا ہے تجھ سے بات کروں تو بھی مجھ سے نظر ملا تو سہی تیرے میرے کی بات جانے دے عمر کتنی بچی بتا تو سہی کیسے خود کو سنبھال رکھا ہے نسخہ آصفؔ مجھے لکھا تو سہی

غزل · Ghazal

duaaein maang ke dil ko qaraar rahtaa hai

دعائیں مانگ کے دل کو قرار رہتا ہے ترے کرم کا ہمیں انتظار رہتا ہے وہ میرے درد کو پڑھتا ہے میرے چہرے سے نمی ہو آنکھ میں تو بے قرار رہتا ہے اگر کبھی میں جھڑک دوں کسی سوالی کو مرا ضمیر بہت شرمسار رہتا ہے جب ایک فرقے کے لوگوں پہ ٹوٹتے ہیں ستم تماش بینوں میں ہی شہریار رہتا ہے یہ سچ ہے فون پہ بات ہوئیں مگر بیٹو گلے لگانے کو دل بے قرار رہتا ہے ہماری جھولی میں لعل و گہر نہیں آصفؔ خزانہ پیار کا ہاں بے شمار رہتا ہے

غزل · Ghazal

khasta-dil hain na hamein aur sataanaa logo

خستہ دل ہیں نہ ہمیں اور ستانا لوگو ذکر اس کا نہ زباں پر کبھی لانا لوگو عقل تیار تو ہے ترک تعلق کو مگر اتنا آسان نہیں دل کو منانا لوگو جا بجا ڈھونڈھتی پھرتی ہیں نگاہیں جس کو جانے کس شہر میں ہے اس کا ٹھکانہ لوگو دور تک پھیل گئی بات ہماری اس کی کل لکھا جائے گا اک اور فسانہ لوگو جانے کس لمحہ وہ کس موڑ پہ مل جائے گی موت کا کوئی پتہ ہے نہ ٹھکانہ لوگو خود کو مشکل سے سنبھالے ہیں بہت ٹوٹے ہیں ہم بکھر جائیں گے مت ٹھیس لگانا لوگو عمر بھر کے لئے بے چین یہ کر دیتا ہے میری مانو تو کبھی دل نہ لگانا لوگو

غزل · Ghazal

dhuup sar se guzarne vaali hai

دھوپ سر سے گزرنے والی ہے زندگی شام کرنے والی ہے آج رشتوں کو جوڑ کر رکھیے کل تو ہستی بکھرنے والی ہے یہ جو بل کھا کے چل رہی ہے بہت یہ ندی تو اترنے والی ہے پھر بگولا اٹھا ہے بستی میں پھر قیامت گزرنے والی ہے یورش رنج و غم سے تو آصفؔ بن کے کندن نکھرنے والی ہے

Similar Poets