SHAWORDS
Asif Mirza

Asif Mirza

Asif Mirza

Asif Mirza

poet
7Ghazal

Ghazalغزل

See all 7
غزل · Ghazal

کوئی بچے بھی تو کیسے کمال ہوتا ہے جو یہ لبوں پہ تبسم کا جال ہوتا ہے برا بھلے کو کہو تو بھی وہ دعا دے گا برا برے کو کہو تو وبال ہوتا ہے کسے پڑی ہے جو ہر بات میری سمجھے گا بس ایک ماں ہی ہے جس کو خیال ہوتا ہے یہ بے شعور ادیبوں کی بستیاں ہیں یہاں جواب دیتے ہی پھر سے سوال ہوتا ہے جہاں پہ ختم ضرورت ہوئی یہی ہوگا سفر کے بعد ٹکٹ کا جو حال ہوتا ہے نظر زمین پہ رکھنا یہیں ملیں گے پھر بلندیوں کو بھی آصفؔ زوال ہوتا ہے

koi bache bhi to kaise kamaal hotaa hai

1 views

غزل · Ghazal

جسے ہم سے محبت ہو یہاں پر بیٹھ سکتا ہے کھلا در ہے کوئی بھی آ کے اندر بیٹھ سکتا ہے زیادہ بھی کسی بچے کو دھمکانا نہیں ورنہ بڑھاپے تک کو اس کے دل میں یہ ڈر بیٹھ سکتا ہے ہمارے کہنے سے تم آب و دانہ رکھ کے تو دیکھو تمہاری چھت پہ بھی آ کر کبوتر بیٹھ سکتا ہے شجر ہیں ہم تو پتھر کھا کے بھی بدلے میں پھل دیں گے ہماری چھاؤں میں دشمن بھی آ کر بیٹھ سکتا ہے غموں کے وائرس نے دل ہمارا ایسے جکڑا ہے ذرا سا مسکرانے سے بھی سرور بیٹھ سکتا ہے زمیں پر مخملی چادر ہو اور کرسی پہ کانٹے ہوں تو پھر راجا بھی خوش ہو کر زمیں پر بیٹھ سکتا ہے کہیں کا بھی نہیں چھوڑے گا یہ جو عشق ہے آصف اسے انگلی نہ پکڑانا یہ سر پر بیٹھ سکتا ہے

jise ham se mohabbat ho yahaan par baiTh saktaa hai

1 views

غزل · Ghazal

اک بہانہ بنا کے چھوڑ گیا وہ ہمیں آزما کے چھوڑ گیا اک مسلسل کمائی تھی چاہت چند سکے کما کے چھوڑ گیا دل کو طبلہ سمجھ رکھا ہے کیا جو بھی آیا بجا کے چھوڑ گیا چھوڑ جاتے ہیں بے وفا تو بس وہ تو پھر بھی بتا کے چھوڑ گیا میں دعا پر تھا منحصر آصفؔ وہ بھروسے دوا کے چھوڑ گیا

ik bahaana banaa ke chhoD gayaa

غزل · Ghazal

وہ بھی رونے کو تھا اب اس سے گلہ کیا کرتا ہو بھی جاتا میں اگر اس سے خفا کیا کرتا چھوڑ جاتا وہ مجھے مجھ سے مری جاں لے کر وہ مرا اس سے زیادہ بھی برا کیا کرتا مجھ کو ملنا تو نہیں تھا میں ملا بھی لیکن اس کی آنکھوں میں تھے آنسو میں بھلا کیا کرتا چیختا ہی رہا پر میری کسی نے نہ سنی دم نہیں تھا مری غزلوں میں گلا کیا کرتا روز دیکھا نہیں جاتا تھا تڑپنا اس کا مجھ کو کرنی پڑی مرنے کی دعا کیا کرتا اس نے ہر چیز کا جب مجھ سے بدل مانگا تو میں نے لوٹا دی پھر اس کی وہ دعا کیا کرتا

vo bhi rone ko thaa ab us se gila kyaa kartaa

غزل · Ghazal

یہ دعاؤں کا اثر ہے طاقت فریاد ہے جان لیوا غم ہے پھر بھی زندگی آباد ہے آپ رہنے دیجئے آساں نہیں پڑھنا ہمیں دل تو زخمی ہے مگر چہرہ ہمارا شاد ہے دو ہی چیزیں کھینچ سکتی ہیں ہمیں اپنی طرف ایک تو تم ہو مری جاں اک تمہاری یاد ہے درمیاں دونوں کے اک شک کی بھی گنجائش نہیں اس قدر مضبوط اپنے عشق کی بنیاد ہے خوش ہو پنجرے میں پرندہ یا دکھی ہو شاخ پر اس کو مطلب ہی نہیں صیاد تو صیاد ہے کام کچھ کرتے نہیں ہیں یہ محبت کے سوا اس لیے ہی عاشقوں کی زندگی برباد ہے میری آزادی کا مطلب تم بتاؤگے مجھے جس کی اپنی روشنی سوئے رخ جلاد ہے ہر ترقی پر تمہارے خاص تو دیتے ہی ہیں حاسدوں سے بھی ملے جو وہ مبارک باد ہے

ye du'aaon kaa asar hai taaqat-e-faryaad hai

غزل · Ghazal

یک بیک کشف و کرامات بھی ہو سکتی ہے سیدھے سادوں کی یہ اوقات بھی ہو سکتی ہے طے شدہ وقت اضافی بھی تو ہو سکتا ہے دن نکلتے ہی کبھی رات بھی ہو سکتی ہے دل بھی غمگین ہے اور اشک سے بوجھل پلکیں ایسے حالات ہیں برسات بھی ہو سکتی ہے طنزیہ طور سے مسکان کھلی ہے لب پر یہ کسی غم کی شروعات بھی ہو سکتی ہے بے وفا کہہ کے جنہیں چھوڑ دیا تھا آصفؔ راہ میں ان سے ملاقات بھی ہو سکتی ہے

yak-ba-yak kashf-o-karaamaat bhi ho sakti hai

Similar Poets