SHAWORDS
Asif Rasheed Asjad

Asif Rasheed Asjad

Asif Rasheed Asjad

Asif Rasheed Asjad

poet
7Ghazal

Ghazalغزل

See all 7
غزل · Ghazal

پھول سے خوشبو اٹھی اور رنگ پیکر سے اٹھا حسرت نظارہ لے کر میں بھی منظر سے اٹھا روشنی پھیلی تو اپنی بے گھری کے خوف سے اک لرزتا ہانپتا سایا مرے ڈر سے اٹھا خواہش تعبیر ایسی تھی کہ اپنی نیند سے میں نہیں جاگا تو میرا خواب بستر سے اٹھا حشر سے کچھ کم نہیں ہے دست قاتل کے لیے خون ناحق تو رہا چپ شور خنجر سے اٹھا آئنے کا یہ کرم ہم پہ ہوا کہ بزم میں وہ جو ہم سے دور بیٹھا تھا برابر سے اٹھا

phuul se khushbu uThi aur rang paikar se uThaa

غزل · Ghazal

زمیں کے زخم کو پہلے رفو کیا جائے پھر اس کے بعد دریدہ فلک سیا جائے ہمارا عکس اگر درمیاں نہ حائل ہو تو آئنے کو گلے سے لگا لیا جائے یہ زندگی تو پرانی شراب جیسی ہے یہ کڑوا گھونٹ ہے لیکن اسے پیا جائے جو رفتگاں ہیں انہیں لوٹ کر نہیں آنا اب انتظار کا بستر اٹھا دیا جائے تمہاری یاد نے شب خون مارنا ہے تو کیا دل و دماغ سے پہرہ ہٹا دیا جائے ہمارے سر پہ جو ٹوٹا ہے آسماں تو کیا اب آسمان کو سر پر اٹھا لیا جائے

zamin ke zakhm ko pahle rafu kiyaa jaae

غزل · Ghazal

نہیں ہے یوں کے دما دم ہوا نے رقص کیا شدید حبس تھا کم کم ہوا نے رقص کیا بس ایک میں ہی وہاں پر طواف میں تو نہ تھا درون شہر مکرم ہوا نے رقص کیا چراغ قتل ہوا تو خوشی سے مقتل میں لگا کے نعرۂ رقصم ہوا نے رقص کیا تمام دن کی تمازت کے بعد رات گئے گری جو پھول پہ شبنم ہوا نے رقص کیا سمندروں کے سفر سے پلٹ کے آئی تو ذرا ذرا سی ہوئی نم ہوا نے رقص کیا

nahin hai yuun ke damaa-dam havaa ne raqs kiyaa

غزل · Ghazal

کہاں کسی کو دکھائی گئی ہے خاموشی بغیر جسم بنائی گئی ہے خاموشی تضاد یہ ہے بنا کر کھنکتی مٹی سے مرے لہو میں ملائی گئی ہے خاموشی بلا کا شور انڈیلا گیا ہے کانوں میں مگر زباں کو سکھائی گئی ہے خاموشی زمیں پہ اس کا گزارا نہیں تھا اس باعث خلا کے بیچ بسائی گئی ہے خاموشی کچھ اس لیے بھی ہوا شور بزم مے کہ انہیں غزل بنا کے سنائی گئی ہے خاموشی

kahaan kisi ko dikhaai gai hai khaamoshi

غزل · Ghazal

خدا سے مشورہ مانگا ہے تیرے بارے میں کوئی اشارہ تو اب ہوگا استخارے میں یہ میری سانس جو چاہے خرید سکتا ہے میں بھر کے بیچ رہا ہوں اسے غبارے میں جو بات بات پہ دیوار رونے لگتی ہے کسی کا خون ملایا ہے تو نے گارے میں وہ اک چراغ جو آیا ہے میرے حصے میں وہ جل رہا ہے کسی دوسرے ستارے میں پتا نہیں ہے جو عشق و ہوس کا فرق تجھے بتاؤں سورۂ یوسف ہے کس سپارے میں

khudaa se mashvara maangaa hai tere baare mein

غزل · Ghazal

ہے غلط فہمی ہوا کی اس سے ڈر جاتا ہوں میں حوصلہ بن کر چراغوں میں اتر جاتا ہوں میں نیند کی آغوش میں تھک کر گروں میں جب کبھی خواب جی اٹھتے ہیں میرے اور مر جاتا ہوں میں گھر مکینوں سے بنا کرتا ہے پتھر سے نہیں بس اسی امید پر ہر روز گھر جاتا ہوں میں میں نے تجھ سے کیا کبھی پوچھا کدھر جاتی ہے تو اے شب آوارہ تجھ کو کیا کدھر جاتا ہوں میں میرے جانے پر نہ ہو گھر کی اداسی یوں ملول تو اگر گھبرا گئی ہے تو ٹھہر جاتا ہوں میں

hai ghalat-fahmi havaa ki us se Dar jaataa huun main

Similar Poets