
Asifa Zamani
Asifa Zamani
Asifa Zamani
Ghazalغزل
کسی کی سانس اکھڑتی جا رہی تھی میں لاچاری سے تکتی جا رہی تھی جو پھینکی کنکری تھی قبر پر وہ دعائے خیر کرتی جا رہی تھی ادھر تھا حسن کا انکار پھر بھی طلب موسیٰ کی بڑھتی جا رہی تھی طواف کعبہ کی ایسی خوشی تھی کہ میری سانس رکتی جا رہی تھی زمانے کے ستم سہتے ہوئے بھی زمانیؔ شوق کرتی جا رہی تھی
kisi ki saans ukhaDti jaa rahi thi
اے مرے دل بتا خواب بنتا ہے کیوں روٹھنا ان کی فطرت ہے روتا ہے کیوں بے وفا آدمی بے وفا زندگی جانتا ہے اگر دل لگاتا ہے کیوں دور رہ کر بھی جب تو مرے پاس ہے تجھ کو پانے کو دل پھر مچلتا ہے کیوں وہ جدا کیا ہوئے زندگی بھی گئی آنسوؤں کی جگہ خوں بہاتا ہے کیوں
ai mire dil bataa khvaab buntaa hai kyuun
تیری یادوں نے تڑپایا بہت ہے بھلے ہی دل کو سمجھایا بہت ہے بہت زخمی کیا ہے دل کو تم نے تمہیں کو پھر بھی اپنایا بہت ہے کھلے رہتے ہیں زخم دل ہمیشہ خزاں نے ظلم تو ڈھایا بہت ہے لب جاناں جو زمزم آتشیں تھا حواسوں پر مرے چھایا بہت ہے لغت میں حسن کی تعریف ڈھونڈھی مگر ہر لفظ کم مایہ بہت ہے دل آتش کی سازش میں زمانیؔ شب ہجراں کو گرمایا بہت ہے
teri yaadon ne taDpaayaa bahut hai
زندگی میں تجھ کو پانا آج تک بھولا نہیں پھر ترا چپکے سے جانا آج تک بھولا نہیں پڑ کے پیروں پر پرستش کی اجازت چاہنا اور مرا وہ بوکھلانا آج تک بھولا نہیں ہر بشر ہے خود غرض مہر و وفا کچھ بھی نہیں ہم کو تنہا چھوڑ جانا آج تک بھولا نہیں تم ہمارے تھے ہی کب اس کا ہوا احساس جب دل کا سکتے میں وہ آنا آج تک بھولا نہیں آصفہؔ تو کتنی بھولی ہے ستم سہتی رہی پھر بھی تیرا مسکرانا آج تک بھولا نہیں
zindagi mein tujh ko paanaa aaj tak bhulaa nahin
گھر کو کیسا بھی تم سجا رکھنا کہیں غم کا بھی داخلہ رکھنا گر کسی کو سمجھنا اپنا تم دھوکہ کھانے کا حوصلہ رکھنا اتنی قربت کسی سے مت رکھو کچھ ضروری ہے فاصلہ رکھنا ان کی ہر بات میٹھی ہوتی ہے جھوٹی باتوں کا مت گلہ رکھنا زندگی ایک بار ملتی ہے اس کو جینے کا حوصلہ رکھنا ناامیدی کو کفر کہتے ہیں رب سے امید آصفہؔ رکھنا
ghar ko kaisaa bhi tum sajaa rakhnaa
تم سے شکوہ بھی نہیں کوئی شکایت بھی نہیں اور اس ترک تعلق کی وضاحت بھی نہیں یاد میراث ہے یادیں ہی امانت ہیں مری وہ تو محفوظ ہیں اب ان کی عنایت بھی نہیں جب مری گردش دوراں سے ملاقات ہوئی ہنس کے بولے تجھے حاجات کفایت بھی نہیں تلخ یادوں کا دفینہ ہے یہ معصوم سا دل تلخ یادوں سے ہمیں کوئی شکایت بھی نہیں آصفہؔ صرف ہے کہنے کے لئے دل میرا اب مگر دل پہ مرے میری حکومت بھی نہیں
tum se shikva bhi nahin koi shikaayat bhi nahin





