
Aslam Barabankvi
Aslam Barabankvi
Aslam Barabankvi
Ghazalغزل
کس کو دکھلائیں گے وہ ناز و ادا میرے بعد ہوگی کس پر یہ بھلا مشق جفا میرے بعد دیکھیے آپؐ بھی افسردہ رہیں گے اکثر یار آ جائے گی جب میری وفا میرے بعد زینت حسن بڑھی خون جگر سے میرے پھیکا پڑ جائے گا یہ رنگ حنا میرے بعد بارہا عرش بریں نالۂ شب سے کانپا عرش تک جائے گی کب آہ رسا میرے بعد میں چلا جاؤں گا محفل سے نہ ہوں آپؐ خفا کس پہ پھر ہوں گے مگر آپؐ خفا میرے بعد نو گرفتار بلا ہوگا نہ مجھ سا کوئی کون چاہے گا تجھے زلف دوتا میرے بعد اٹھ گیا عالم فانی سے یہ کہہ کر اسلمؔ دیکھیے کس کی اب آتی ہے قضا میرے بعد
kis ko dikhlaaeinge vo naaz-o-adaa mere baad
ہمیشہ خوش رہو تم اور دعا کیا بجز اس کے فقیروں کی صدا کیا حسینوں کی جفاؤں کا گلہ کیا ستم گاروں سے امید وفا کیا ذرا آنے تو دو فصل بہاراں ابھی ذکر جنون فتنہ زا کیا مزاج حسن سے میں آشنا ہوں نہ پوچھو دل کا میرے مدعا کیا فزوں تر ہو گئے کچھ غم ہمارے بجز اس کے محبت میں ملا کیا شکایت ہے تو بخت نارسا سے حسینوں سے تغافل کا گلہ کیا اگر وہ دور ہیں میری نظر سے تو ایسی زندگی کا پھر مزا کیا جنون عشق سے گھبرا رہا ہوں نہ کہہ دے وہ کہیں اس کو ہوا کیا سمجھ کر مجھ کو دیوانہ وہ اسلمؔ خدا معلوم فرمائیں سزا کیا
hamesha khush raho tum aur duaa kyaa
غنچے کہیں ہیں گل ہیں کہیں باغباں کہیں ہوگا نہ ایسا اجڑا ہوا گلستاں کہیں اللہ رے حسن دوست کی رعنائی جمال ہو جائے محو دید نہ سارا جہاں کہیں اپنے مریض ہجر کی کچھ لیجئے خبر دم توڑ دے نہ آپ کا اب نیم جاں کہیں وارفتگیٔ ذوق محبت نہ پوچھئے سجدہ کہیں جبیں ہے کہیں آستاں کہیں محفل میں آئے جام جو مجھ تک زہے نصیب باقی نہ رہ گیا ہو مرا امتحاں کہیں غیروں سے سننے والے مری داستان عشق ہو میری داستاں نہ تری داستاں کہیں غیروں سے ربط و ضبط ہے اسلمؔ سے بے رخی یہ بھی وفا کے طور ہیں اے مہرباں کہیں
ghunche kahin hain gul hain kahin baaghbaan kahin
جان دے کر بھی کچھ بھلا نہ ہوا یوں بھی حق زیست کا ادا نہ ہوا فرض تھا عاشقی میں مر جانا ہم سے طے یہ بھی مرحلہ نہ ہوا یہ بھی آئین عشق تھا یعنی ان سے میں طالب وفا نہ ہوا تھا زیاں ہی زیاں محبت میں حسن تمکیں سے فائدہ نہ ہوا زندگی بے ثبات تھی اسلمؔ حق محبت کا کچھ ادا نہ ہوا
jaan de kar bhi kuchh bhalaa na huaa
درد جتنے ہیں وہی باعث درماں ہوں گے چارہ گر تیرے نہ شرمندۂ احساں ہوں گے دیکھنا گیسوئے جاناں بھی پریشاں ہوں گے موسم گل میں جو ہم چاک گریباں ہوں گے یوں ترے عشق میں ہم بے سر و ساماں ہوں گے اپنی ہستی کے تصور سے گریزاں ہوں گے داستاں غیر کی رنگین بنانے والے دیکھنا میرے فسانے کے بھی عنواں ہوں گے نہ رہے گا رہ الفت میں خودی کا احساس طلب حسن میں جب بے سر و ساماں ہوں گے حسرت و یاس کے مارے ہیں سبھی تو غنچے باغباں اب نہ چمن میں گل خنداں ہوں گے یہی غمزے یہی وعدے یہی انداز وفا یہی اک روز مری موت کے ساماں ہوں گے آج ہنستے ہیں جو دیوانگئ دل پہ مری ایک دن خود بھی وہ انگشت بدنداں ہوں گے رات جو بزم خرابات میں مدہوش ہوئے محتسب ہم کو یقیں ہے وہ مسلماں ہوں گے شوق تکمیل جنوں مجھ کو لئے جاتا ہے ہوں گے اب زیر قدم جتنے بیاباں ہوں گے پھر وہی وحشت دل جوش میں آئی اسلمؔ پھر مرے مونس و غم خوار پریشاں ہوں گے
dard jitne hain vahi baais-e-darmaan honge
چمن والا جو انداز چمن کا قدرداں رہتا نہ پھولوں پر جفا ہوتی نہ زد میں آشیاں رہتا بہاریں مسکراتیں مہرباں گر باغباں رہتا چمن کی ڈالی ڈالی پر ہمارا آشیاں رہتا اصول مے کشی سب سیکھ لیتا جام و مینا سے جو واعظ بھی شریک حلقۂ پیر مغاں رہتا چمک اٹھتا مقدر ساتھ دیتی نارسا قسمت جو فردوس نظر بن کر کسی کا آستاں رہتا چلو اچھا ہوا دل نے ہر اک صورت مٹا ڈالی ہجوم شوق میں کار جہاں بار گراں رہتا بہل جاتا ہے دل ویرانیٔ دشت و بیاباں سے نہ ہوتے یہ مناظر تو ترا وحشی کہاں رہتا مری رنگیں بیانی لطف دیتی بزم ساقی میں جو رہتے اک طرف تم اک طرف پیر مغاں رہتا وطن کے ٹکڑے ٹکڑے کرنے والوں سے کوئی پوچھے تباہی کیوں یہ آتی ایک اگر ہندوستاں رہتا محبت میری رسوائی کا باعث بن گئی اسلمؔ بہت اچھا تھا اس سے میں جو بے نام و نشاں رہتا
chaman vaalaa jo andaaz-e-chaman kaa qadr-daan rahtaa





