SHAWORDS
Aslam Noor Aslam

Aslam Noor Aslam

Aslam Noor Aslam

Aslam Noor Aslam

poet
14Ghazal

Ghazalغزل

See all 14
غزل · Ghazal

کرب جدائی آنکھوں میں آنے نہیں دیا بیکار آنسوؤں کو بھی جانے نہیں دیا میں نے نکل کے خود سے بنایا تجھے خدا تو نے عقیدتوں کو نبھانے نہیں دیا کچھ دان مانگ لیتا مگر رات دل نے بھی سوئی ہوئی پری کو جگانے نہیں دیا ہوتی قبول اس کے سوا کس کی رہبری دل نے ہی انقلاب اٹھانے نہیں دیا آنکھیں تھی میری کتنی رفاقت کی منتظر میں نے انہیں یہ خواب سجانے نہیں دیا اک رسم ہے وفا کے لئے بے وفائیں بھی کیا ظلم ہے کہ اس کو نبھانے نہیں دیا سچ ہے اسے خیال مری خواہشوں کا تھا میں نے ہی زیر لب انہیں آنے نہیں دیا اک فلسفہ اسی کی حقیقت سے مانگ کر سر کو در بتاں پہ جھکانے نہیں دیا

karb-e-judaai aankhon mein aane nahin diyaa

غزل · Ghazal

زندگی ہو مری نظر میں ہو ہو دواؤں میں چشم تر میں ہو جب بھی لکھا ہے تم کو لکھا ہے تم ہی لفظوں میں ہو سطر میں ہو تم ہی محور ہو ہر تخیل کا میر و غالب میں ہو ظفر میں ہو تم فضاؤں میں رقص کرتی ہو کو بہ کو پھیلتی خبر میں ہو اب زمانے سے کیا چھپاؤں میں تم تو مہتاب ہو نظر میں ہو میری قسمت بنے بھی رشتے قمر کوئی تم سا جو میرے گھر میں ہو کچھ لبوں پر ہمیں بھی ہے اسلمؔ جی کے اترے ہوئے بھنور میں ہو

zindagi ho miri nazar mein ho

غزل · Ghazal

مرے لہجہ میں مصری گھولتا ہے وہ اکثر آ کے مجھ میں بولتا ہے وہیں سے رات پیہم جاگتی ہے جہاں سے چاند پلکیں کھولتا ہے کبھی مجھ میں انا کا خون ہو جب لہو میری رگوں میں گھولتا ہے ہے شاید کوئی گہرا گھاؤ اس کا وہ میزانوں میں باتیں تولتا ہے دیا ہے مجھ کو اللہ کی اماں میں مگر مائی کا دل ہے بولتا ہے وہ میری ذات میں موجود اسلمؔ مجھی پر راز میرے کھولتا ہے

mire lahja mein misri gholtaa hai

غزل · Ghazal

لہجہ بھی گفتگو کی طرح با کمال ہے وہ شخص آئنے کی طرح بے مثال ہے آ جاؤ گے جو زد پہ پتہ چل ہی جائے گا جادوئے حسن یار سے بچنا محال ہے اک میں نہیں اداس ترے انتظار میں آ دیکھ چاند کا بھی تو چہرہ نڈھال ہے کرتے ہو مجھ سے پیار بتاؤ نہ میرے عشق برسوں سے میرے دل میں یہی اک سوال ہے تارے وہ گنتے رہتے ہیں کہتے ہیں رات بھر ان کو بتائیں کس طرح اپنا جو حال ہے دو لخت ہو گیا ہے انا سے مرا وجود اس دل کے آئنے میں پڑا کس کا بال ہے اسلمؔ نہ بچنے پاؤ گے دلکش فضا سے آج شانہ پہ ان کے ناگ سا زلفوں کا جال ہے

lahja bhi guftugu ki tarah baa-kamaal hai

غزل · Ghazal

کچھ آرزو کے خواب دکھانے لگی ہوا پانی کے زندگی کو ستانے لگی ہوا ہم بھی ہوئے شکار ہیں اظہار عشق کے جب گیسوؤں کے خم کو دکھانے لگی ہوا باد صبا تمہاری مہک لے کے آ گئی روٹھے ہوئے دلوں کو منانے لگی ہوا لیلیٰ و قیس ہم کو کہنے لگے ہیں لوگ رسوائیوں کو نام بتانے لگی ہوا دل کی منڈیر کا یہ دیا کیسے بجھ گیا پوچھا تو اپنا پہلو بجانے لگی ہوا تم جو نہیں ہو پاس تو کیسے بدل گئی شبنم میں بھیگی رات جلانے لگی ہوا اسلمؔ کوئی جو شب کبھی ظالم سی بن گئی سینے سے لگ کے مجھ کو سلانے لگی ہوا

kuchh aarzu ke khvaab dikhaane lagi havaa

غزل · Ghazal

لبوں پر تشنگی آنکھوں میں ہے برسات کا عالم کہ تنہا کیسے گزرے گا بتا جذبات کا عالم سفر خوشبو بنے اور راستے آسان ہو جائیں نگاہوں میں سما جائے جو تیری ذات کا عالم بلندی پر کھڑے ہو کر میاں حیران سے کیوں ہو سمجھ میں آ گیا شاید انوکھی مات کا عالم جدا ہونا رگ جاں سے بھلا آسان ہی کب تھا مرے ہر ہر نفس میں گھل گیا سکرات کا عالم اگر ہیں نیتیں شفاف اور دل میں ہے گنجائش سلجھ کر کیوں نہیں دیتا یہ الجھی بات کا عالم میں انگلی پھیرتا ہوں جب کبھی بھیگے سے ساحل پر بنا دیتا ہے تصویریں تری ذرات کا عالم

labon par tishnagi aankhon mein hai barsaat kaa aalam

Similar Poets