
Aslam Parvez
Aslam Parvez
Aslam Parvez
Ghazalغزل
آندھیوں سے کیسے کھیلے گا تہہ دامن چراغ چل کے آغوش ہوا میں کیجئے روشن چراغ پھوٹتی ہے تن کے اندر ہی سے من کی روشنی یہ دیے باتی کا رشتہ اور یہ تن من چراغ یوں تو کالی رات سی ہے یہ گھٹا برسات کی اس کی چوکھٹ پر جلاتا ہے مگر ساون چراغ یاد کے کہرے میں لپٹا چاند سا چہرہ کوئی جیسے روشن ہو دریچے میں پس چلمن چراغ دشت ظلمت میں سفر یوں ننگے پیروں طے ہوا آبلے تلووں کے پھوٹے جل اٹھے بن بن چراغ لوٹ کر اب کون لے جائے گا یہ مال و متاع بے در و دیوار سا گھر اور بے روغن چراغ اس کی جھلمل آہٹیں دیوار کے پیچھے مری ہو گئے سب روزن دیوار گھر آنگن چراغ ان دنوں تاریکیوں کے سر پہ ہے ظل ہما اب کہاں لے جا کے رکھے اپنا اجلا پن چراغ عکس ہو یا روشنی دونوں سے اب ڈرتا ہے وہ دور رکھیے اس سے شام زندگی درپن چراغ
aandhiyon se kaise khelegaa tah-e-daaman charaagh
ایک ساز حشر زا شام و سحر بجنے لگا زلزلوں کی تھرتھراہٹ سے نگر بجنے لگا جاگ اٹھیں انگڑائیاں لیتی ہوئی ساری دھنیں موگری کی چوٹ پڑتے ہی گجر بجنے لگا کھنچ رہی تھیں ساز کے تاروں کی صورت سب نسیں اس نے کیا چھیڑا مجھے میں سربسر بجنے لگا راز کے گھنگھرو کو دامن سے نہ یوں باندھے پھرو کیا بتاؤگے کسی کو یہ اگر بجنے لگا سوچ کی آندھی سے سر میں گونجتی ہیں سیٹیاں میں یہ تنہائی میں کیا بیٹھا کہ سر بجنے لگا اس کے استقبال میں ماحول خود بجتا رہا گنگنا اٹھے دریچے اور در بجنے لگا آنے والے نے تو بس زنجیر در کھڑکائی تھی اس کی موسیقی سے لیکن گھر کا گھر بجنے لگا پتیوں میں جگنوؤں کی آتشیں جھنکار سی شب کی تاریکی میں اک سونا شجر بجنے لگا ایک آواز شکست ساز کی سی کیفیت اپنی ویرانی کی لرزش سے کھنڈر بجنے لگا آپ کی شہرت کا طوفاں اب رکے گا کس طرح میری رسوائی کا ڈنکا در بدر بجنے لگا
ek saaz-e-hashr-zaa shaam-o-sahar bajne lagaa
اور تو دھرتی پہ کب کیسے کہاں اگتا نمک ہم نے اکثر نیشکر بویا ہے اور کاٹا نمک اس رخ گل رنگ پر کجلاہٹیں سی دھوپ کی جیسے شیرینی میں کوئی گھول دے تھوڑا نمک لذت آزار جب پامال ہو تو اور لطف زخم کو وہ دور ہی سے کاش دکھلاتا نمک وہ تعلق میں روا رکھتا ہے لطف و جور ساتھ یعنی اس مشروب میں آدھی شکر آدھا نمک گھل رہا ہو جب فضا میں ایک تیکھا ذائقہ سرسراتا ہے ہواؤں میں بھی تب گویا نمک ریت کر دیتے ہیں چٹانوں کو موسم کے بھنور میں تو پھر برسات کی بھیگی ہوا کھاتا نمک گھر کی دیواروں کو میرے جتنا لونی کھا گئی اتنا میں نے زندگی کا ہے کہاں کھایا نمک جب سمندر چڑھ کے میرے سر کے اوپر آ گیا کان میں اک لہر بولی کیسے کچھ چکھا نمک وہ نمک داں ہے سراپا شوخ چنچل سانورا اس کی مرلی کے سروں میں بھی ہے لہراتا نمک
aur to dharti pe kab kaise kahaan ugtaa namak
شہر میں رہ کر یہی سوچا ہے بس برسات میں جانے کتنے گھر گریں اب کے برس برسات میں کھڑکیاں جنگل میں چلتی ریل کی سب کھول دو یہ ہوا یہ مٹی اور پانی کا مس برسات میں اپنے احساسات کے تاروں کو یوں ڈھیلا نہ چھوڑ اپنی نس نس کی طرح ان کو بھی کس برسات میں بج رہے ہیں دھیمے دھیمے آنگنوں میں جل ترنگ میٹھی میٹھی سی ہے کمروں میں امس برسات میں میری نس نس میں اترتی جا رہی ہیں بوندیاں اور سلگتا جا رہا ہے ہر نفس برسات میں عشق کی تقدیس کو اب اک طرف رکھ دیجئے عشق کے رتبے کو پہنچی ہے ہوس برسات میں بس تناور پیڑ ہی رہ جائیں گے سیدھے کھڑے باقی سب بہہ جائیں گے یہ خار و خس برسات میں وقت سے پہلے قفس کی تیلیوں سے سر نہ پھوڑ تنکے تنکے ہو کے بکھرے گا قفس برسات میں بادلوں کی گڑگڑاہٹ میں رجز خوانی کی شان اور بجلی کی کڑک ہے دیر رس برسات میں طور اس کے بھی بدلتے رہتے ہیں موسم کے ساتھ ہے تغافل سال بھر اور پیش و پس برسات میں
shahr mein rah kar yahi sochaa hai bas barsaat mein
پگڈنڈیوں پہ چلنا بھی تو بھیڑ چال ہے اے ندرت خیال ترا کیا خیال ہے وہ لوگ خوش نصیب ہیں اس دور میں جنہیں اتنی خبر نہیں ہے کہ جینا محال ہے یہ التوائے قتل ہے جاں کی اماں نہیں شہر ستم میں اب جو صلیبوں کا کال ہے بیمار کیجئے نہ ان الفاظ سے مجھے کہیے مزاج کیسے ہیں کیا حال چال ہے رستے تمام بند ہیں کوئے نجات کے مر کر بھی میری خاک یہیں پائمال ہے رسم عیار طبع خریدار اٹھ گئی جو خود کو بیچ لے وہی صاحب کمال ہے بس یہ ہوا ہے آپ کی اوقات گھٹ گئی یہ کس نے کہہ دیا ہے کہ قحط الرجال ہے تنگ آ کے آپ دیر و حرم کو تو چھوڑ دیں لیکن نیا شوالہ یہ ٹیڑھا سوال ہے شیشے کا سر لیے ہوئے مٹی کے جسم پر بازار کے ہجوم میں چلنا محال ہے کب میں نے یہ کہا ہے کہ میں بے مثال ہوں اک شخص آئنے میں بھی میری مثال ہے
pagDanDiyon pe chalnaa bhi to bheD-chaal hai





