Aslam Shaikh
تاریخ سے ملا نہ روایات سے ملا مجھ کو مرا سراغ مری ذات سے ملا جس شب ہوا تھا جام میں مہتاب کا نزول احساس زندگی مجھے اس رات سے ملا حاصل ہے جس قدر ہمیں سرمایۂ دروغ یہ صرف اپنی کہنہ روایات سے ملا حصہ جو رہ گیا ہے بقایا حیات کا اس کو طبیب قلب خرابات سے ملا اظہار میرے زور طبیعت کی دین تھی لیکن شعور شورش حالات سے ملا
taarikh se milaa na rivaayaat se milaa