
Asma Saidi
Asma Saidi
Asma Saidi
Ghazalغزل
تمہیں مہکی ہوئی دل کش فضائیں یاد کرتی ہیں سحر کی یہ طرب افزا ہوائیں یاد کرتی ہیں یہ آہیں یاد کرتی ہیں یہ آنسو یاد کرتے ہیں تمہیں تھا ناز جن پر وہ وفائیں یاد کرتی ہیں نشاط زندگی بخشی تمہاری جن جفاؤں نے تمہیں ایک ایک کر کے وہ جفائیں یاد کرتی ہیں حسیں لمحات گزرے تھے کبھی جن کے کناروں پر انہیں چشموں کی یہ شیریں صدائیں یاد کرتی ہیں عروس حسن فطرت کی ادائیں تم کو پیاری تھیں وہی پیاری وہی رنگیں ادائیں یاد کرتی ہیں تمہیں سے کیف و نغمہ تھا نواسنجان گلشن میں نواسنجان گلشن کی نوائیں یاد کرتی ہیں نگاہیں بن کے جو تم پر کبھی قربان ہوتی تھیں تمہیں اسماؔ کے دل کی وہ دعائیں یاد کرتی ہیں
tumhein mahki hui dilkash fazaaein yaad karti hain
محبت ہے نہ ذوق آرزو ہے حیات اب کس قدر بے رنگ و بو ہے تصور میں نہیں جلوہ کسی کا نظر میں ہے نہ کوئی روبرو ہے کبھی ڈرتے تھے جس کے وہم سے بھی وہی منظر نظر میں ہو بہو ہے فضا سنسان ہے اور ہو کا عالم اندھیرا اور وحشت چار سو ہے نہیں وہ رونق صحن گلستاں بہاروں میں نہ وہ جوش نمو ہے گراں سی ہے نظر کو سیر عالم کمی ہر شے میں گویا کو بکو ہے امنگیں ہیں نہ وہ اب ولولے ہیں نہ شوق سعی و ذوق جستجو ہے مٹا جب دل سے احساس محبت خوشی بھی غم ہے اک طوق گلو ہے کسی کی کج نگاہی کا گلہ کیا زمانے کی یہی فطرت ہے خو ہے بہ ایں کیفیت صد حزن و حسرت نظر میں آج بھی بس تو ہی تو ہے
mohabbat hai na zauq-e-aarzu hai
نشاط و طرب سے حذر کر چکے زمانے کو ہم پے سپر کر چکے نشاں ان کا پاؤ گے کیسے یہاں کہ جو اس جہاں سے سفر کر چکے بناؤ نشیمن تم اپنا یہاں بہر طور ہم تو بسر کر چکے ضرورت نہیں تیری اے حشر اب جہاں کو وہ زیر و زبر کر چکے تغافل کا کیا ہوگا ان پر اثر تری یاد سے جو حذر کر چکے یہ پرواز اسماؔ ابھی کچھ نہیں بہت لوگ طے بحر و بر کر چکے
nashaat-o-tarab se hazar kar chuke
ناکامیوں کا غم سر منزل نہیں رہا اب دل کسی بھی راہ کے قابل نہیں رہا سہنی پڑیں کچھ اتنی زمانے کی سختیاں دل ان کی آرزو پہ بھی مائل نہیں رہا اے بارگاہ حسن یہ کیا وقت آ گیا تیرے کرم کا اب کوئی سائل نہیں رہا پامال حزن و غفلت و غم کی یہ لاش ہے اب بھی کہیں گے آپ میں غافل نہیں رہا اب دل ہے اور آرزوئے ترک شوق ہے اب دل کسی کے عشق کے قابل نہیں رہا کیا حادثات زیست کے ہم نذر ہو گئے لطف و کرم کسی کا جو شامل نہیں رہا اسماؔ چہل پہل تھی وہ مجنوں سے دشت میں اب دل ربا نظارۂ محمل نہیں رہا
naakaamiyon kaa gham sar-e-manzil nahin rahaa
کیوں کر نشاط شوق کی مدت گزر گئی اک موج بوئے گل ادھر آئی ادھر گئی اک عمر جس امید پر اپنی گزر گئی آخر کو جان بھی اسی امید پر گئی دن رات ہو گئے ہیں بہم اک مقام پر زلف سیاہ جب ترے رخ پر بکھر گئی وہ ناز وہ غرور وہ انداز کیا کہیں کس کس طرح نہ ہم پہ قیامت گزر گئی تھک کر جو آج بیٹھ گئے راہ عشق میں اے اہل شوق پہلی سی ہمت کدھر گئی اسماؔ ملی بھی کوئی خوشی کی اگر گھڑی وہ بھی غموں کی یاد میں یوںہی گزر گئی
kyunkar nashaat-e-shauq ki muddat guzar gai
تمہیں یہ چاند ستارے تلاش کرتے ہیں حسین شب کے نظارے تلاش کرتے ہیں تمہارے نغمۂ دل کش کی گونج ہے اب تک تمہیں ندی کے کنارے تلاش کرتے ہیں بچھڑ گئے ہو جو اے رہروان راہ حیات تمہیں رفیق تمہارے تلاش کرتے ہیں تمہیں نگاہ بہر سو تلاش کرتی ہے تصورات ہمارے تلاش کرتے ہیں تمہارے بعد جو تنہا ہیں بیکس و غمگیں وہ پھر تمہارے سہارے تلاش کرتے ہیں تمہیں کو ڈھونڈنے میں ساری زندگی گزری تمہیں کو ہم تھکے ہارے تلاش کرتے ہیں حسین یاد کے گل آہ کے شرارے ہیں تمہیں یہ گل یہ شرارے تلاش کرتے ہیں وہ لمحے عشرت رفتہ کے آج ہم اسماؔ کبھی جو ہنس کے گزارے تلاش کرتے ہیں
tumhein ye chaand sitaare talaash karte hain





