Asrar Saifi
Asrar Saifi
Asrar Saifi
Ghazalغزل
کیا کہیں کس سے کہیں رنجش و آفات کا غم اب سہا جاتا نہیں گردش حالات کا غم ہر گھڑی شعلے برستے تھے بدن پر میرے کیسے میں بھولتا گزرے ہوئے لمحات کا غم خواب بھی ٹوٹ گئے دل بھی مرا ٹوٹ گیا عمر بھر مجھ کو رہا ان سے ملاقات کا غم میں خوشی پہلی سی اے دوست کہاں سے لاؤں اب تو ہر وقت مرے پیچھے ہے خدشات کا غم آج بھی زندہ ہوں میں بن کے اجالوں کا سفیر اپنی آنکھوں میں سموئے ہوئے ظلمات کا غم تھک گئی میری زباں کرکے دعا بھی سیفیؔ کم ہوا پھر بھی کہاں ارض و سماوات کا غم
kyaa kahein kis se kahein ranjish-o-aafaat kaa gham
ایک مخصوص دائرہ رکھنا قربتوں میں بھی فاصلہ رکھنا دوست تو دوست دشمنوں سے بھی ملنے جلنے کا سلسلہ رکھنا سخت سے سخت مشکلوں میں بھی آگے بڑھنے کا حوصلہ رکھنا عکس چہرہ دکھائی دیتا ہے اپنے ہاتھوں میں آئینہ رکھنا رنج ہو یا خوشی کا موقع ہو بات میں بات کا مزہ رکھنا اب تو عادت سی ہو گئی سیفیؔ پیش در پیش مرحلہ رکھنا
ek makhsus daaera rakhnaa





