Ata Husain Kaleem
Ata Husain Kaleem
Ata Husain Kaleem
Ghazalغزل
nazrein milin charaagh jale raushni hui
نظریں ملیں چراغ جلے روشنی ہوئی لو دے اٹھی پھر اپنی طبیعت بجھی ہوئی خون جگر سے نکھرے خد و خال آرزو دل کے لہو سے شاخ تمنا ہری ہوئی اب صبح نو بہار کی کیا آرزو کریں اک شاخ آشیاں ہے سو وہ بھی جلی ہوئی پھر یاد آ گئیں شب ہجراں کی تلخیاں دل کو کبھی خوشی جو گھڑی دو گھڑی ہوئی بھڑکا دیا اسے ترے دو دن کے پیار نے اک عمر سے جو آگ تھی دل میں دبی ہوئی دل ہی تو ایک دیر و حرم کا چراغ تھا دل بجھ گیا تو پھر نہ کہیں روشنی ہوئی دنیا بجز طلسم نظر اور کچھ نہیں خود کو دئے فریب اگر آگہی ہوئی وہ چاند رات تیرا بچھڑنا نظر میں ہے اس گھر میں تیرے بعد کہاں روشنی ہوئی اس خود فریب دل نے وہ رسوا کیا ہمیں ہم اپنے ہو سکے نہ تری بندگی ہوئی آباد جس سے تھیں مری تنہائیاں کلیمؔ نظروں میں ہے وہ محفل یاراں سجی ہوئی
zabaan junun ko milegi to lab-kushaa honge
زباں جنوں کو ملے گی تو لب کشا ہوں گے بہار آئی تو ہم بھی غزل سرا ہوں گے نہ درد میں کوئی لذت نہ ظلم کا احساس اب اس سے بڑھ کے ستم اور دل پہ کیا ہوں گے بدلتی رت کے بھی تیور وہی ہیں ہم سفرو وہی جہاں وہی بندے وہی خدا ہوں گے یہ اور بات مداوا نہ ہو سکے غم کا مگر جفاؤں کے چرچے تو برملا ہوں گے رواں دواں ہیں ازل سے وفا کے شیدائی غبار بن کے اڑیں گے تو رونما ہوں گے کرن کرن سہی اترے گی بام و در پہ سحر بجھے دیوں سے نہ ہم طالب ضیا ہوں گے کلیمؔ جن کو تراشا تھا اپنے ہاتھوں سے کسے خبر تھی وہ بت ہی مرے خدا ہوں گے
Dhalaa jo din to gayaa nur-e-aaftaab bhi saath
ڈھلا جو دن تو گیا نور آفتاب بھی ساتھ شباب لے گیا رعنائی شباب بھی ساتھ وہ ساتھ تھا تو شب زندگی چراغاں تھی جلو میں رہتے تھے انجم بھی ماہتاب بھی ساتھ حیات کیا ہے فقط مستعار لمحۂ شوق یہ کہہ کے لے گئی موج ہوا حباب بھی ساتھ اسی میں خیر ہے نظریں جھکی رہیں ورنہ نظر اٹھے گی تو جل جائے گا نقاب بھی ساتھ ہمیں سے رونق ہستی ہے اس خرابے میں جو ہم مٹے تو مٹے گی یہ آب و تاب بھی ساتھ حیات درد کی طغیانیوں میں ڈوبی ہے غم حبیب بھی ہے زیست کے عذاب بھی ساتھ خدائے عرش سخن سے ہوں فیضیاب کلیمؔ کہ طور شعر سے لایا ہوں میں کتاب بھی ساتھ





