SHAWORDS
A

Ata Lucknowi

Ata Lucknowi

Ata Lucknowi

poet
9Ghazal

Ghazalغزل

See all 9
غزل · Ghazal

کسی حسین پہ ناصح کو پیار آئے تو ہمیں بخار ہے اس کو بخار آئے تو اٹھائے عشق کا کاندھے پہ بار آئے تو قلی بنے کہ بنے ہیں کہار آئے تو بلا کی طرح نہ عشاق سب چمٹ جائیں زبان شوخ پہ ہاں ایک بار آئے تو جو سن ڈھلا ہے تو ہو وقف سرخی و پاؤڈر خزاں کے دور میں فصل بہار آئے تو وہ ایک ہم ہیں کہ ہر سانس ہے وفا آمیز وہ ایک تو ہے جسے اعتبار آئے تو جوانی آئی ہے ناز و ادا عیاں ہو جائیں ہے دم پہ حسن کی کھچڑی اچار آئے تو سنا ہے گور غریباں میں اسپتال نہیں اگر کسی کو لحد میں بخار آئے تو

kisi hasin pe naaseh ko pyaar aae to

غزل · Ghazal

حسین پیر کی محفل میں دیوانے نہیں آتے جو شمعیں بجھ چکی ہیں ان پہ پروانے نہیں آتے سر محفل کبھی چپل وہ لہرانے نہیں آتے رقیبوں کے سروں پر پھول برسانے نہیں آتے بلندی عشق کامل اور پستی ہے ہوس ناکی جہاں اندھے پہنچتے ہیں وہاں کانے نہیں آتے تمہاری حرکتوں کا شیخ جی دنیا میں چرچا ہے حقیقت جانتے ہیں ہم کو افسانے نہیں آتے الٰہی مسکن بوم خوش الحاں اب کہاں ہوگا نظر دنیا کے نقشہ میں بھی ویرانے نہیں آتے مہاسے اور چیچک کی سجاوٹ ہے وہ چہرہ پر کہ وہ اب مفت بھی تصویر کھینچوانے نہیں آتے وہ حاذق ڈاکٹر بھی ہیں بہ یک چشمی کے باعث سے مریض اس کو کبھی بھولے سے دکھلانے نہیں آتے

hasin-e-pir ki mahfil mein divaane nahin aate

غزل · Ghazal

دست الفت بڑھ گئے میں ان کا شیدا ہو گیا ہجر کا غم اس قدر کھایا کہ ہیضہ ہو گیا ہم تھے ایم اے پاس انٹریو میں پھر بھی رہ گئے میٹرک لیکن منسٹر کا نواسا ہو گیا وہ سمجھتا تھا ادا ہے ہو اگر ترچھی نگاہ مشق کی اتنی کہ آخر وہ پٹنکھا ہو گیا دیکھتا تھا منہ رہا جس وقت تک یہ آئنہ اب دل صد چاک میرا ان کا کنگھا ہو گیا تیر الفت کا کہیں پورا کہیں آدھا لگا کوئی اندھا ہو گیا اور کوئی کانا ہو گیا قیس کو تھا عشق پھر لیلیٰ کو الفت ہو گئی ابتدا میں نر جو تھا آخر وہ مادہ ہو گیا کنٹھ مالا اس کے نکلا ہو گیا وہ تلخ کام جو کہ میٹھا آم تھا کڑوا کریلا ہو گیا یاد آیا جبکہ مجنوں تھا کبھی لمبی کھجور یا وہ دن ہے سوکھ کر بالکل چھوارا ہو گیا

dast-e-ulfat baDh gae main un kaa shaidaa ho gayaa

غزل · Ghazal

توازن کو کھوتی ہے ہر ذات پی کے وہ گھونسہ چلے یا چلے لات پی کے خراماں خراماں پہاڑوں سے چل کر اب آئے گا جاڑا بھی برسات پی کے وہ انساں نہیں تار جن کے بدن پر مگر پھر بھی آئے ہیں ہر رات پی کے نہ تھی تشنگی کے بجھانے کی صورت چھکیں ندیاں شہر و دیہات پی کے نیا فاؤنٹین پین بلانوش کتنا کہ ہر روز چلتا ہے داوات پی کے

tavaazun ko khoti hai har zaat pi ke

غزل · Ghazal

الفت کا جرم کرتے ہی دیوانہ ہو گیا ایوان عشق میرے لئے تھانہ ہو گیا آواگمن ہے یا کہ طلسم نگاہ حسن انسان تھا سگ در جانانہ ہو گیا کچھ سخت جاں کے قتل کا صدمہ نہیں انہیں اس کی ہے نگہ تیغ میں دندانہ ہو گیا لالے کی آگ پھولوں کی آنکھیں چڑھی ہوئیں صحن چمن جو تھا وہ مدک خانہ ہو گیا انصاف کیا کیا ہے عدالت نے حسن کی عیش و نشاط عمر کا جرمانہ ہو گیا پیری کے بھی کرشمے نرالے جہاں میں ہیں قندھار کا انار تھا بے دانہ ہو گیا

ulfat kaa jurm karte hi divaana ho gayaa

غزل · Ghazal

ہوا سوال کہ فریاد اب نہیں آتی دیا جواب تری یاد اب نہیں آتی زمین شعر میں گو ہل چلائے جاتے ہیں مگر دماغ کی وہ کھاد اب نہیں آتی ہے چند لوگوں پہ موقوف اس لئے خلقت جہاں پہ بٹتا ہے پرشاد اب نہیں آتی افاقہ ہے انہیں کھجلی سے اس لئے ہم کو پسند داد کی بیداد اب نہیں آتی جو ایک مرتبہ پھنس کر نکل گئی بلبل کبھی وہ دام میں صیاد اب نہیں آتی قفس کو توڑ کے طائر نکل گیا ہوگا صدائے نالۂ فریاد اب نہیں آتی خزاں رسیدہ ہوئے گھر بہ فیض نس بندی بہار کثرت اولاد اب نہیں آتی نہ ذوق کوہ کنی ہے نہ شوق جاں بازی صدائے تیشۂ فرہاد اب نہیں آتی کبھی چلے تھے ٹکے کوس آج موٹر ہے جو ابتدا تھی کبھی یاد اب نہیں آتی

huaa savaal ki fariyaad ab nahin aati

Similar Poets