Ataullah Sajjad
galim-o-khirqa abaa-o-qabaa se lagte hain
گلیم و خرقہ عبا و قبا سے لگتے ہیں کہ اہل دل بھی اب اہل ریا سے لگتے ہیں وصال و ہجر کے موسم کچھ ایسے بدلے ہیں کہ وہ قریب ہیں لیکن جدا سے لگتے ہیں ڈسے گا ان کو پشیمانیوں کا سانپ ضرور کہ سب حسین قلوپطرہ سے لگتے ہیں کسی سے چارہ گری کی امید کیا رکھیے کہ اب تو تیر سے دل پر دعا سے لگتے ہیں نظر میں جن کی زمانہ نہیں سماتا تھا جو تو نہیں ہے تو بے آسرا سے لگتے ہیں نگاہ دوست نہ جا ان کی سیر چشمی پر یہ تشنہ لب تو زمانوں کے پیاسے لگتے ہیں جو طے کرو تو یہ لگتا ہے عمر ساری لگے وہ فاصلے کہ بظاہر ذرا سے لگتے ہیں نہ التفات نہ بیگانگی مگر پھر بھی کچھ اجنبی سے تو کچھ آشنا سے لگتے ہیں جو دور سے نظر آتے ہیں بے ستوں کی طرح قریب جا کے جو دیکھو ذرا سے لگتے ہیں مسافران رہ دل کہیں بھی ہوں سجادؔ یہ دل گرفتہ بہم آشنا سے لگتے ہیں