Ataur Rahman Ata
Ataur Rahman Ata
Ataur Rahman Ata
Ghazalغزل
ye kaisaa shahr kaa manzar dikhaai detaa hai
یہ کیسا شہر کا منظر دکھائی دیتا ہے ہر ایک سمت سمندر دکھائی دیتا ہے سلگتی دھوپ میں اکثر دکھائی دیتا ہے مجھے وہ شخص تو پتھر دکھائی دیتا ہے سمجھ رہا تھا جسے اپنا غم گسار بہت اسی کے ہاتھ میں خنجر دکھائی دیتا ہے خدا ہی جانے کہ رہتا ہے اس میں آخر کون مہیب دشت میں اک گھر دکھائی دیتا ہے اسی کے نیچے رکے گا تھکا ہوا ہر شخص یہ پیڑ ایسا تناور دکھائی دیتا ہے اگے گی فصل محبت کی کس طرح رحمان دلوں کا کھیت ہی بنجر دکھائی دیتا ہے
chand lamhe jo intizaar ke hain
چند لمحے جو انتظار کے ہیں کرب کے اور انتشار کے ہیں شاخ گل یوں کبھی جھلستی نہیں یہ کرم موسم بہار کے ہیں جو دئے ٹمٹما رہے ہیں ابھی میرے اجڑے ہوئے دیار کے ہیں اب کہیں کچھ دکھائی دے کیسے سارے منظر دھویں غبار کے ہیں کہاں جا کر سکوں تلاش کروں ہر جگہ وقت خلفشار کے ہیں وہ کسی کام کے نہیں ہیں عطاؔ نام ان کے فقط شمار کے ہیں





