SHAWORDS
Ateeb Anwar Sahil

Ateeb Anwar Sahil

Ateeb Anwar Sahil

Ateeb Anwar Sahil

poet
7Ghazal

Ghazalغزل

See all 7
غزل · Ghazal

ستم کی دھوپ ہے یادوں کا ماہتاب نہیں غم جہاں کا کہیں بھی کوئی حساب نہیں وفا کی راہ میں کانٹے ہی ہم کو راس آئے ہمارے بخت میں گویا کوئی گلاب نہیں ضمیر بیچ کے حاصل کیا جو تخت و تاج سکون قلب کا اس میں کوئی نصاب نہیں امیر شہر کے محلوں میں جشن جاری ہے غریب شہر کی آنکھوں میں کوئی خواب نہیں زمانہ پوچھتا ہے مجھ سے داستان الم مگر یہ دکھ ہے کہ یہ لائق خطاب نہیں نچوڑ لائے ہیں ہستی کا ہم تو رس سارا غم حیات ترا ذائقہ خراب نہیں عجیب رنگ ہے اس دور خود پرستی کا سوال وہ ہیں کہ جن کا کوئی جواب نہیں کریدتے ہو جو تم دوسروں کے عیب و ہنر تمہارے پاس میں خود کا کوئی حساب نہیں جو بوجھ سر پہ ہے وہ ہم ہی جانتے ہیں بس غم معاش کا اس دور میں حساب نہیں ہر ایک موڑ پہ دستک ہے اجنبی غم کی حیات وہ ہے جو ہرگز سکوں کا باب نہیں تمہاری بزم میں ہم بھی تو آئے تھے لیکن ہمارے واسطے کیوں گردش شباب نہیں

sitam ki dhuup hai yaadon kaa maahtaab nahin

غزل · Ghazal

عجب ہے دنیا کی بے حسی بھی کہ روح زخموں میں بٹ رہی ہے کسی کے لہجے کی کاٹ دیکھو کہ جیسے شہ رگ ہی کٹ رہی ہے ہزار باتیں بنا رہے ہیں جو میری حالت سے بے خبر ہیں یہ خلق شہر ستم شعاراں اب اپنی حد سے الٹ رہی ہے وہ جس کے سائے میں بیٹھ کر ہم کبھی سکون جہاں بتاتے وہ میری ہمت کی چھاؤں اب تو مرے ہی سر سے سمٹ رہی ہے کسی کی ہمدردیوں کے پیچھے چھپی ہے اک مصلحت کی دنیا وہ سانپ بن کر تمام تلخی ہمارے تن سے لپٹ رہی ہے نہ پوچھ مجھ سے مری کہانی کہ جس کا کوئی سرا نہیں ہے حیات میری تمہارے غم میں بس ایک صدمے میں کٹ رہی ہے تمہارے لہجے کی وہ مٹھاسیں کسی کا اب تو نصیب ہوں گی مگر مری روح کی زمیں اب تمہاری خوشبو سے پھٹ رہی ہے مری اداسی کے پیچھے دیکھو ہزار چہرے چھپے ہوئے ہیں یہ میرے دکھ کی پرانی عادت اب ایک تسبیح رٹ رہی ہے میں ہنس کے ملتا ہوں سب سے لیکن یہ میرا اندر ہی جانتا ہے یہ روح ساحلؔ ترے الم میں ہزار حصوں میں بٹ رہی ہے

'ajab hai duniyaa ki be-hisi bhi ki ruuh zakhmon mein baT rahi hai

غزل · Ghazal

تیری دوری نے مجھے روگ لگا رکھا ہے چاند کو اب مری آنکھوں نے جلا رکھا ہے دل کو لگتا ہے کہ وہ آج بھی آئے گا ضرور ہم نے ہر شے کو اسی طرح سجا رکھا ہے ہم کو معلوم تھا دنیا کی عداوت کا چلن اس لیے ہم نے ترا نام چھپا رکھا ہے تو تو ہر حال میں ہی جان سے پیارا نکلا جس نے نفرت کا بھی معیار بڑھا رکھا ہے یہی انجام ہے اس عشق کی قربت کا یہاں سنگ ہر شخص نے ہاتھوں میں اٹھا رکھا ہے شہر میں آج بھی وہ شخص بہت تنہا ہے جس نے دولت سے بہت نام کما رکھا ہے اب کوئی راہ نجات اس سے نہیں بنتی ہے جس نے دنیا کی محبت کو سزا رکھا ہے آج تک دل سے نہیں کوئی دعا نکلی ہے ہم نے ہر بات کو ہونٹوں میں دبا رکھا ہے چاہے دنیا مجھے دیکھے نہ کبھی اچھے سے میں نے ہر شخص کو سینے سے لگا رکھا ہے کون کہتا ہے کہ تنہا ہوں میں اس دنیا میں تیری یادوں نے تو میلہ سا سجا رکھا ہے ظرف دیکھا ہے مری تشنہ لبی کا تم نے میں نے صحرا کو بھی آنکھوں میں بسا رکھا ہے موج طوفان سے ڈرنا تو مقدر ہے مرا میں نے کشتی کو بھی منجدھار میں لا رکھا ہے جس کی تعبیر میسر ہی نہیں ہے ہم کو ایسا اک خواب نگاہوں میں سجا رکھا ہے خاک ہونا ہی مقدر ہے تو پھر ڈرنا کیا ہم نے ساحلؔ یہی مٹی کو بتا رکھا ہے

teri duuri ne mujhe rog lagaa rakkhaa hai

غزل · Ghazal

شہر بے مہر میں اب رسم وفا یاد نہیں کس کو چاہا تھا یہاں کس کا گلہ یاد نہیں بات کرنے کو ترستے ہیں مسیحا میرے زخم تو یاد ہیں زخموں کی دوا یاد نہیں ہم سے پوچھے کوئی دنیا کی ملامت کا عذاب لوگ کیا کہتے ہیں اب بہر خدا یاد نہیں ہم نے دنیا کے حوادث کو جیا ہے ایسے اب تو مرنے کی بھی ہم کو تو ادا یاد نہیں اتنے صدمے ہیں کہ اب ہوش نہیں ہے اپنا ہم نے کیا کھویا تھا کیا ہم کو ملا یاد نہیں لوگ کہتے ہیں کہ دنیا بڑی رنگیں ہے میاں ہم کو تو خاک کے ذروں کے سوا یاد نہیں جس کی خاطر میں زمانے سے لڑا تھا تنہا آج دیکھا تو اسے میرا پتا یاد نہیں اب تو ہر ہاتھ میں پتھر ہی نظر آتا ہے کس نے دی تھی ہمیں پھولوں کی قبا یاد نہیں لوگ کہتے ہیں کہ ساحلؔ ترا عالم کیا ہے بے خودی ایسی ہے خود اپنا پتا یاد نہیں

shahr-e-be-mehr mein ab rasm-e-vafaa yaad nahin

غزل · Ghazal

آئنہ رکھتے تو اپنی کج ادائی دیکھتے کاش تم بھی خود میں تھوڑی سی برائی دیکھتے بجھ گئی ہے آنکھ اب منظر میں کچھ رکھا نہیں ورنہ ہم بھی خواب کی جلوہ نمائی دیکھتے تھک گئے ہیں لفظ اب خاموش رہنا ہی بھلا اب بھلا کیا حرف و معنی کی لڑائی دیکھتے پڑھ لیا ہوتا اگر تم نے ہمارے زخم کو ہم میں اک اجڑی ہوئی پوری خدائی دیکھتے خود سے ہم باہر نکل پائے نہیں عمر تمام تجھ تک اے دنیا کہاں اپنی رسائی دیکھتے رہ گئے مٹ کر ہم اپنی بے بسی کے موڑ پر پھر کہاں سے عشق کی ہم پارسائی دیکھتے جس جگہ ہم نے گنوائی اپنی عمر بے ثمر کاش تم بھی وہ جگہ وہ بے وفائی دیکھتے ایک مدت سے تعلق صرف مجبوری رہا تم کبھی تو عشق میں وہ آشنائی دیکھتے خون تھوکا ہے تو جا کر یہ غزل پیدا ہوئی کاش تم بھی لفظ کی یہ خوں چکائی دیکھتے ختم ہے اب یہ تماشہ خاک ڈالو ہم پہ بھی کب تلک ساحلؔ تم اپنی جگ ہنسائی دیکھتے

aaina rakhte to apni kaj-adaai dekhte

غزل · Ghazal

مری آنکھوں سے اب بہتا لہو اچھا نہیں لگتا مرا خود سے بھی کرنا گفتگو اچھا نہیں لگتا تمہارے ہاتھ جو مہکے ہیں میرے خوں کی لالی سے تمہاری آستینوں پر رفو اچھا نہیں لگتا بہت نزدیک سے دیکھا ہے میں نے اپنی میت کو کفن کا یہ سفید و شوخ رو اچھا نہیں لگتا گزرتی ہے جو دل پر وہ بیاں ہو ہی نہیں پاتی مجھے اب لفظوں کا یہ ہاؤ ہو اچھا نہیں لگتا تمہاری یاد میں آنکھیں لہو اب تھوکتی ہیں جی یہ آنسو کا بدلتا رنگ و بو اچھا نہیں لگتا میں اپنے خون سے لکھتا ہوں اب قصے جدائی کے قلم کو اب سیاہی کا سبو اچھا نہیں لگتا دم رخصت مرے لب پر کوئی شکوہ نہیں ہوگا کسی سے موت کے پل گفتگو اچھا نہیں لگتا در و دیوار ہنستے ہیں مری اس بے بسی پر اب مجھے اب اپنے گھر کا رنگ و بو اچھا نہیں لگتا ترے ہی ہاتھ سے مٹنا مقدر ہے مرا شاید کسی کی اور کرنا جستجو اچھا نہیں لگتا بس اب اے موت آ کر چھین لے تو سب سے ساحلؔ کو کہ اب مجھ کو ہی میرا رو بہ رو اچھا نہیں لگتا

miri aankhon se ab bahtaa lahhu achchhaa nahin lagtaa

Similar Poets