Ateeq Anwar Ateeq
khat bhi kuchh likhe hote she'r bhi kahe hote
خط بھی کچھ لکھے ہوتے شعر بھی کہے ہوتے ہم بھی گر تری مانند سکھ سے جی رہے ہوتے بانس کے درختوں پر اوس گر رہی ہوگی چهٹیاں اگر ہوتیں گھر کو ہو لیے ہوتے وہ خدا کا بھیجا تھا جس نے دکھ کو جھیلا ہے ہم بھی گر نبی ہوتے مسکرا رہے ہوتے جسم ایک پیالہ ہے اس میں روح رکھی ہے ہم اگر خدا ہوتے کب کے مر گئے ہوتے تشنگی بھی بجھ جاتی فاصلے بھی مٹ جاتے کاش میرے خوابوں کے جسم بھی بنے ہوتے