SHAWORDS
Ateeq Muzaffarpuri

Ateeq Muzaffarpuri

Ateeq Muzaffarpuri

Ateeq Muzaffarpuri

poet
7Ghazal

Ghazalغزل

See all 7
غزل · Ghazal

فلک پر کوئی سازش ہو رہی ہے سمندر پر ہی بارش ہو رہی ہے ہٹائے جا رہے ہیں کام کے لوگ نکموں پر نوازش ہو رہی ہے دبایا جا رہا ہے خوبیوں کو جہالت کی نمائش ہو رہی ہے برائی چل رہی ہے پیٹھ پیچھے مگر منہ پر ستائش ہو رہی ہے نوازا جا رہا ہے دشمنوں کو وفاداروں سے پرسش ہو رہی ہے عتیقؔ اب چل چلاؤ کی گھڑی ہے دعاؤں کی گزارش ہو رہی ہے

falak par koi saazish ho rahi hai

غزل · Ghazal

الفاظ نہ دے پائیں اگر ساتھ بیاں کا آنکھوں سے بھی لے لیتے ہیں وہ کام زباں کا قاتل کی جبیں پر ہیں پسینے کی لکیریں شاید کہ اثر ہے یہ مری آہ و فغاں کا آنگن ہے نہ ڈیوڑھی نہ چنبیلی کا وہ منڈوا شہروں نے بدل ڈالا ہے مفہوم مکاں کا آئے ہو تو کچھ دیر ٹھہر جاؤ یہاں بھی ہم بھی تو مزہ لیں ذرا رنگین سماں کا یہ سوچ کے وعدے پہ یقیں ہم نے کیا ہے کچھ پاس تو رکھوگے مری جان زباں کا اس طرز تخاطب سے عتیقؔ ان کو لگا ہے جیسے کہ کبھی تھا ہی نہیں میں تو یہاں کا

alfaaz na de paaein agar saath bayaan kaa

غزل · Ghazal

آسماں گردش میں تھا ساری زمیں چکر میں تھی زلزلے کے قہر کی تصویر ہر منظر میں تھی آپسی ٹکراؤ نے آخر نمایاں کر دیا ایک چنگاری جو برسوں سے دبی پتھر میں تھی میں اکیلا مر رہا تھا گھر مرا سنسان تھا رونق خانہ رفیق زندگی دفتر میں تھی کر دیا تھا بیوگی کے کرب نے گرچہ نڈھال جلتی بجھتی آنچ سی اک برف کی چادر میں تھی ایک ہی فقرے نے سارا جسم چھلنی کر دیا دھار ایسی طنزیہ الفاظ کے خنجر میں تھی خود نمائی کم لباسی سب نے مل کر چھین لی قاتلانہ اک ادا جو حسن کے تیور میں تھی روک لیتی جو پرندے کو قفس میں اے عتیقؔ آرزو ایسی نہ کوئی بھی دل مضطر میں تھی

aasmaan gardish mein thaa saari zamin chakkar mein thi

غزل · Ghazal

کٹی ہے عمر یہاں ایک گھر بنانے میں حیا نہ آئی تمہیں بستیاں جلانے میں بنا دیا تھا جہاں کو خدا نے کن کہہ کر کروڑوں سال لگے ہیں اسے بسانے میں فریب دے کے تمہیں کیا سکون ملتا ہے ہمیں تو لطف ملا ہے فریب کھانے میں عطا ہو دولت ایماں ہمیں بھی بے پایاں کمی نہیں ہے خدایا ترے خزانے میں ہوا کے مد مقابل چراغ رکھ دینا مزاج عشق رہا ہے یہ ہر زمانے میں عتیقؔ یہ ہی دعا ہے کہ رہتی دنیا تک چراغ علم ہو روشن غریب خانے میں

kaTi hai umr yahaan ek ghar banaane mein

غزل · Ghazal

جس کو دیکھو وہ گرفتار بلا لگتا ہے شہر کا شہر ہی آسیب زدہ لگتا ہے مچھلیاں ساری سمندر کی لرز اٹھتی ہیں کوئی تنکا بھی اگر تنکے سے جا لگتا ہے خود کو دنیا سے ہنر مند سمجھنے والو گھر سے نکلو تو حقیقت کا پتا لگتا ہے دوستی پیار وفا ساتھ نبھانے کی قسم ہر عمل اس کا بناوٹ سے بھرا لگتا ہے گھر کے ماحول میں اس درجہ تعفن ہے عتیقؔ سانس لینا بھی یہاں اب تو سزا لگتا ہے

jis ko dekho vo giraftaar-e-balaa lagtaa hai

غزل · Ghazal

ناقوس کی صداؤں سے اور نہ اذان سے نفرت ہے اس کو ملک کے امن و امان سے ملت فروش کو کسی ملت سے کیا غرض اس کو تو ہے غرض فقط اپنی دکان سے چھلنی جو کر گیا تھا اجودھیا کو رام کی نکلا تھا تیر وہ بھی اسی کی کمان سے اپنا بنا کے آپ نے یہ کیا غضب کیا بیگانہ کر دیا مجھے سارے جہان سے دل کو انہیں سے راہ بھی ہوتی ہے کچھ عتیقؔ الفاظ جو نکلتے ہیں دل کی زبان سے

naaqus ki sadaaon se aur na azaan se

Similar Poets