Athar Azeem Khaan
guzarne ko to apni zindagi ab bhi guzarti hai
گزرنے کو تو اپنی زندگی اب بھی گزرتی ہے مگر ایسے کہ جیسے چوب سے آری گزرتی ہے ترا ملنا ترا مل کر بچھڑنا یاد آتا ہے کسی سگنل پہ رک کر جب کوئی گاڑی گزرتی ہے مرا دن بھی مری شب کی طرح تاریک رہتا ہے یہ کیسی رات ہے جو صبح تک آدھی گزرتی ہے مری خاموش دستک پر کھلے جاتے ہیں دروازے صدائے بے صدا کمروں سے کچھ جلدی گزرتی ہے مرے کمرے میں جب پہلی کرن سورج کی آتی ہے فنا کے کرب سے شب بھر کی تاریکی گزرتی ہے کسی نا خواندہ بوڑھے کی طرح خط اس کا پڑھتا ہوں کہ سو سو بار ہر اک لفظ سے انگلی گزرتی ہے ہمارے گاؤں میں اب کوئی بھی گاڑی نہیں رکتی اگرچہ ریل کی پٹری یوں ہی اب بھی گزرتی ہے مری مانو تو اپنے بند کمرے میں چلے جاؤ کبھی تنہائی میں بھی زندگی اچھی گزرتی ہے ہمیشہ تھام کر رکھتا ہوں میں امید کا دامن بہت مایوس ہو کر مجھ سے مایوسی گزرتی ہے گزر آیا ہوں اس بستی سے میں اطہر عظیمؔ آخر مرے اندر سے اب ہر روز اک بستی گزرتی ہے