Athar Hapuri
خیر میں نے تو کیا نالہ پریشاں ہو کر تم پشیماں نہ کرو مجھ کو پشیماں ہو کر دل میں پیکان تو آ جاتے ہیں ارماں ہو کر دل سے ارمان نکلتے نہیں پیکاں ہو کر یہ صنم خانہ ہے کعبہ تو نہیں ہے زاہد تجھ کو آنا تھا یہاں صاحب ایماں ہو کر جوش وحشت نے گریباں ہی نہ چھوڑا اب کیا فکر انجام کروں سر بہ گریباں ہو کر چھوڑ کر بت کدہ کعبے کو چلا ہے اطہرؔ حیف پتھر نہ پڑے تجھ پہ مسلماں ہو کر
khair main ne to kiyaa naala pareshaan ho kar