SHAWORDS
A

Athar Saleemi

Athar Saleemi

Athar Saleemi

poet
2Ghazal

Ghazalغزل

غزل · Ghazal

dhuein mein Duube hain phuul taare charaagh jugnu chinaar kaise

دھوئیں میں ڈوبے ہیں پھول تارے چراغ جگنو چنار کیسے نئی رتوں کے اڑن کھٹولوں پہ آ رہے ہیں سوار کیسے میں اپنے آنگن کی زرد مٹی پہ بیٹھا پہروں یہ سوچتا ہوں دبیز شیشے کی کھڑکیوں میں اگی تھی شاخ انار کیسے چلو یہ مانا کہ میرے گھر کی گھٹی گھٹی سی فضا تھی لیکن تری منڈیروں کی ڈالیوں پر بجھی دیوں کی قطار کیسے لکھا ہے جغرافیوں میں سب کچھ مگر کسی نے نہ یہ بتایا کھنچی فلک کی قنات کیوں کر بنا زمیں کا مزار کیسے ادھورے خاکے میں رنگ بھر لوں گئے دنوں کا حساب کر لوں مگر جو تیرے بغیر گزرے کروں وہ لمحے شمار کیسے اجاڑ فصلیں حنوط سائے مکان ٹیلے سراب گلیاں اتر کے پانی بنا گیا ہے زمیں پہ نقش و نگار کیسے جنوں کی اندھی ہوا نے اطہرؔ خموش غرفوں کو لب دیے ہیں صدا بنا ہے گلی گلی میں مرے لہو کا فشار کیسے

غزل · Ghazal

mohabbatein bhi likhi hui hain adaavatein bhi likhi hui hain

محبتیں بھی لکھی ہوئی ہیں عداوتیں بھی لکھی ہوئی ہیں کتاب دل میں تو جینے مرنے کی مدتیں بھی لکھی ہوئی ہیں برہنہ پیڑوں کے زاویوں میں گھنے اندھیرے اگے ہیں لیکن انہی اندھیروں میں روشنی کی عبارتیں بھی لکھی ہوئی ہیں یہی زمیں ہے کہ جس نے مجھ کو مرا ہی قاتل بنا دیا ہے اسی زمیں پر مرے لہو کی شہادتیں بھی لکھی ہوئی ہیں حنوط چہروں کے آئنوں میں ہوا کی لہروں نے یہ بھی دیکھا کھنڈر کھنڈر پر نئے دنوں کی بشارتیں بھی لکھی ہوئی ہیں مری نظر میں سراغ منزل شعور بن کر چمک رہا ہے مری جبیں پر کڑے سفر کی مسافتیں بھی لکھی ہوئی ہیں ستم کے ماروں کی بے حسی کو تماشا گاہوں میں لانے والو نحیف جسموں کی بے بسی میں بغاوتیں بھی لکھی ہوئی ہیں جدید حرفوں کے دائروں میں پرانی خوشبو رچی ہوئی ہے صدا کے رخ پر گئی رتوں کی شباہتیں بھی لکھی ہوئی ہیں زمیں کی ٹھنڈی تہوں کے اندر الاؤ کروٹ بدل رہے ہیں ہوا کے ساکت پنے پہ اطہرؔ قیامتیں بھی لکھی ہوئی ہیں

Similar Poets