Athari Fiza
کئے جاؤ مشق ستم یوں ہی پیہم ہمیں حوصلہ ہے کریں گے نہ اف ہم اسی کو وفا کہتے ہیں کیا جہاں میں کہ لفظوں میں نشتر ہو لہجہ ہو برہم وفا اور محبت ہے اوروں سے لیکن کرم کچھ ہو اپنوں پہ بھی بیش اور کم تبھی ہوں گے ہم بھی خود اپنے مقابل ستم کی نظر ان کی ہو جائے جب نم کہا کاٹ کر اس نے ہاتھوں کو میرے قلم کیوں رکا کیا سیاہی ہے کم کم لیے اپنے پلکوں پہ اشکوں کا دریا فضاؔ دل دھڑکنے لگا اب تو مدھم
kiye jaao mashq-e-sitam yuun hi paiham
1 views