SHAWORDS
Atif Khan

Atif Khan

Atif Khan

Atif Khan

poet
11Ghazal

Ghazalغزل

See all 11
غزل · Ghazal

کر کے خواب آنکھ میں پہلے تو وہ لائے خود کو اور پھر مجھ کو جگانے کو ستائے خود کو ہے یہ لازم کہ ملائک بھی بشر ہو جائیں اب جو انسان فرشتہ نظر آئے خود کو آخری مرحلہ آیا ہے محبت کا اب اب دیا خود ہی بجھا کر بھی دکھائے خود کو وہ پذیرائی کہیں عشق میں ملتی ہی نہیں جو بھی روٹھا ہے وہ اب خود ہی منائے خود کو مجھ میں تو تجھ میں تلاشوں ہوں میں سیرت اپنی سنگ اس طرز پہ آئینہ بلائے خود کو وقت دنیا کو سمجھنے میں کریں ضائع کیا حیف اب تک تو نہ ہم ہی سمجھ آئے خود کو رہزن عصر ہی لے جائے نہ آگے کی راہ کہہ دو عاطفؔ سے کہ تیزی سے بڑھائے خود کو

kar ke khvaab aankh mein pahle to vo laae khud ko

غزل · Ghazal

میں انسان نوع ہوں میں عیسیٰ نفس ہوں زمیں سے تمہاری میں پھر کل اٹھوں گا میں آدم ہوں بے جاں سا پتھر نہیں ہوں بھنور سا ہوں صحرا میں پل پل اٹھوں گا ہوں دریا کا پانی کہ جب بھی مروں گا سمندر کی بن کے میں ہلچل اٹھوں گا کبھی کی جو سورج نے وعدہ خلافی یہ ہے میرا وعدہ کے میں جل اٹھوں گا کوئی عشق جیسے پرانا ہو عاطفؔ میں مر کے بھی دل میں مسلسل اٹھوں گا

main insaan-e-naua huun main isaa-nafas huun

غزل · Ghazal

درمیان گناہ و ثواب آدمی ہے خود اپنے لئے ہی عذاب آدمی یہ زمیں جس خطا کی بنی تھی سزا میں وہی تو ہوں خانہ خراب آدمی حل معمے کا جیسے معما کوئی بس کہ ہے آدمی کا جواب آدمی دیکھ بے ساختہ عکس گھبرا گیا شیشے کے سامنے بے حجاب آدمی فلسفہ بھی خودی فلسفی بھی خودی آپ طالب ہے آپ ہی کتاب آدمی حاشیہ ہے کبھی اور کبھی رنگ ہے جیسے جام آدمی اور شراب آدمی موت دے بھی گئی ہے جواب ازل اور کھڑا رہ گیا لا جواب آدمی مجھ سے جل تھل ہوا ہے مرا اندروں میں نے کر ہی دیا بے نقاب آدمی

darmiyaan-e-gunaah-o-savaab aadmi

غزل · Ghazal

دے کے خود خون کا منظر مجھ کو آج کہتا ہے وہ خنجر مجھ کو کب رہا کوئی ٹھکانہ اپنا اب کہ ڈھونڈھو مرے اندر مجھ کو دیکھ کر میرا شکستہ ہونا کہتا ہے پیر سکندر مجھ کو زخم جاں اور تبسم شیوہ کر گیا وقت قلندر مجھ کو مجھ کو صحرا سا ملا تھا جو کبھی کر گیا وہ ہی سمندر مجھ کو

de ke khud khuun kaa manzar mujh ko

غزل · Ghazal

پہلے تو نیزے خواب میں بویا کریں گے رات دن آنکھوں سے اپنی خون پھر دھویا کریں گے رات دن ہم تتلیوں کے پنکھ پہ دھاریں لگا کے نیند کی اک شہر نو کے خواب میں چھوڑا کریں گے رات دن بے دار رہ کر بھی ہمیں خواری ملی سو طے کیا موت آ نہ جائے جب تلک سویا کریں گے رات دن تم اک جواب مختصر کا ہم سے جو وعدہ کرو ہم اک سوال وصل ہی سوچا کریں گے رات دن

pahle to neze khvaab mein boyaa kareinge raat din

غزل · Ghazal

دنیا سے ہوئے بیٹھے ہو روپوش اے جانا جلوہ بھی سر عام ہے پرجوش اے جانا دن دشت میں اچھے سے گزر جاتا ہے اکثر جب آتا ہے یاد عالم آغوش اے جانا یہ لوگ شب ہجر بلکھتے تھے جو بے حد محشر سے گزر آئے ہے خاموش اے جانا کل رات تو تم بھی تھے ہمیں یاد بہ ترتیب آج اٹھے ہیں خود سے ہی فراموش اے جانا چھلتے تھے بدن جن کے ہواؤں سے وہی گل بلبل کے ہیں سب قتل پہ خاموش اے جانا کانٹوں سے بھرے ہیں در و دیوار و دریچے اتنے کہ صبا بھی ہے لہو پوش اے جانا

duniyaa se hue baiThe ho ru-posh ai jaanaa

Similar Poets