
Atiq Ur Rehman Safi
Atiq Ur Rehman Safi
Atiq Ur Rehman Safi
Ghazalغزل
miri mushkil agar aasaan banaa dete to achchhaa thaa
مری مشکل اگر آساں بنا دیتے تو اچھا تھا لبوں سے لب دم آخر ملا دیتے تو اچھا تھا میں جی سکتا تھا بس تیری ذرا سی اک عنایت سے مرے ہاتھوں میں ہاتھ اپنا تھما دیتے تو اچھا تھا مری بیتاب دھڑکن کو بھی آ جاتا قرار آخر مرے خوابوں کی دنیا کو سجا دیتے تو اچھا تھا تمہاری بے رخی پر دل مرا بے چین رہتا تھا کبھی عادت یہ تم اپنی بھلا دیتے تو اچھا تھا کبھی اس جلد بازی کا ثمر اچھا نہیں ہوتا کوئی دن اور چاہت میں بتا دیتے تو اچھا تھا صفیؔ آنسو بھی دشمن بن گئے ہیں دیکھ لے آخر نہ ان کو ضبط کرتے تم بہا دیتے تو اچھا تھا
koi nahin hamaaraa pursaan-e-haal ab ke
کوئی نہیں ہمارا پرسان حال اب کے پہلے سے بھی شکستہ آیا ہے سال اب کے ہمت تو آ گئی تھی دکھ جھیلنے کی لیکن آیا ہے غم ہی چل کے اک اور چال اب کے کی ہے بہت عبادت فرقت میں آنسوؤں نے یزداں تو کر لے ان کا کچھ تو خیال اب کے باتوں کی نغمگی سب آہوں میں ڈھل گئی ہے پھیلا اداسیوں کا کیسا یہ جال اب کے دو لخت ہو گیا ہے یہ دل نزار اپنا اٹھا جو دوریوں کا پھر سے سوال اب کے برگ و ثمر سے عاری تنہا شجر ہو جیسے جیون کی ہے صفیؔ جی ایسی مثال اب کے
an-ginat azaab hain ratjagon ke darmiyaan
ان گنت عذاب ہیں رتجگوں کے درمیاں درد بے حساب ہیں رتجگوں کے درمیاں بن چکا ہے دل سوال اب کسی کے ہجر میں اس پہ لا جواب ہیں رتجگوں کے درمیاں اشک روک روک اب شل ہوئے ہیں حوصلے ہر سمے عتاب ہیں رتجگوں کے درمیاں کاش وہ ملے کہیں تو بتاؤں میں اسے کس قدر سراب ہیں رتجگوں کے درمیاں سو چراغ جل بجھے تیرگی نہ کم ہوئی مستقل حجاب ہیں رتجگوں کے درمیاں کیا بتاؤں حال میں اس کو اپنے درد کا وحشتوں کے باب ہیں رتجگوں کے درمیاں وہ جنہیں خبر نہیں قلب ناصبور کی چار سو جناب ہیں رتجگوں کے درمیاں ایک غم چلا گیا دوسرے نے آ لیا سلسلے شتاب ہیں رتجگوں کے درمیاں رکھ رکھاؤ میں سدا رہ کے آج تک یہاں حالتیں خراب ہیں رتجگوں کے درمیاں زندگی کی دوڑ میں پچھلی رت کے خواب سب اب بھی ہم رکاب ہیں رتجگوں کے درمیاں آج یہ کھلا صفیؔ جاں کے اور غم کئی شامل نصاب ہیں رتجگوں کے درمیاں
jis ko chaahaa thaa kab milaa mujh ko
جس کو چاہا تھا کب ملا مجھ کو زندگی سے ہے یہ گلہ مجھ کو درد یادیں اور اک شکستہ دل عاشقی کا ہے یہ صلہ مجھ کو اور کسی سے بھی ربط رکھنے کا راس آیا نہ سلسلہ مجھ کو اب تو آنکھوں سے جی نہیں بھرتا اب کے ہونٹوں سے ہی پلا مجھ کو میری قسمت میں قرب کا لمحہ گر لکھا ہے تو پھر دلا مجھ کو اس کی یادوں کی چاندنی ہر شب بخش دیتی ہے کچھ جلا مجھ کو
phir sadaa-e-mohabbat suni hai abhi
پھر صدائے محبت سنی ہے ابھی زخم نو کی سعادت ملی ہے ابھی رابطہ دل کا دل سے ہے کافی مجھے نور ہی نور میں زندگی ہے ابھی وقت بدلا ہے ہم تم تو بدلے نہیں وہ ہی چاہت وہی بے بسی ہے ابھی یہ جبیں اور کسی در پہ جھکتی ہی کیوں اس میں تیری محبت جڑی ہے ابھی کچھ تمنا سے بڑھ کر بھی پایا مگر آرزو ایک سب سے بڑی ہے ابھی آج بھی زندگانی میں جان صفیؔ اور سب کچھ ہے تیری کمی ہے ابھی
jivan-bhar ki aas hai tu
جیون بھر کی آس ہے تو جینے کا احساس ہے تو تن سے ہے تو دور مگر من کے پھر بھی پاس ہے تو شاید تو ہے ایک سراب لیکن میری پیاس ہے تو تجھ ہی سے ہو جیسے بقاء ایسا اک احساس ہے تو بزم ہو یا تنہائی ہو ہر جا دل کو راس ہے تو





