Atul Maurya
مرے خاموش لہجے سے کہیں ایسا نہ ہو جائے مجھے ڈر ہے کہ میرا ہم نوا غصہ نہ ہو جائے ادھر کی بات کرتا ہے ادھر تو جان لے پھر تو ترے کردار کا آنچل کہیں میلا نہ ہو جائے سنا ہے مل رہی ہیں سب سے اب وہ جھیل سی آنکھیں تو پھر اس جھیل کا پانی کہیں کھارا نہ ہو جائے نہ چھیڑو اس طرح مجھ کو کہے قدرت یہی ہم سے جہاں پر ہے سمندر اب وہاں صحرا نہ ہو جائے اتلؔ رؤو نہ تم ایسے بچھڑ کر یاروں سے اپنے طبیعت میں کہیں رونے سے کچھ گھاٹا نہ ہو جائے
mire khaamosh lahje se kahin aisaa na ho jaae