SHAWORDS
A

Aun Abbas Aun

Aun Abbas Aun

Aun Abbas Aun

poet
9Ghazal

Ghazalغزل

See all 9
غزل · Ghazal

جہان ذات کے آفاق میں دریچہ ملا قفس کھلا تو کہیں خاک میں دریچہ ملا کسی کتاب کے الفاظ قید خانے ہیں کہیں پھٹے ہوئے اوراق میں دریچہ ملا یہ وحشتیں ترا دیوانہ سہہ نہیں پایا جنوں کو دامن صد چاک میں دریچہ ملا ہمارے کمرۂ جاں میں اندھیرے روشن تھے تو ہم کو جملۂ لولاک میں دریچہ ملا لٹک رہا ہے جو منظر فریم کے اندر مجھے وہیں خس و خاشاک میں دریچہ ملا کسی نے کمرۂ خاموشی میں اماں پائی کسی کو گفتۂ بے باک میں دریچہ ملا نئے مکان کو آباد کرنے کی خاطر زمیں پہ در ملے افلاک میں دریچہ ملا در جہان دگر بند ہے ہر ایک پہ پر ہر ایک دیدۂ نمناک میں دریچہ ملا لبوں کو کر کے مقفل جو اعتکاف کیا بدیر حجرۂ ادراک میں دریچہ ملا

jahaan-e-zaat ke aafaaq mein daricha milaa

غزل · Ghazal

معجزہ یوں مشین سے نکلا طور اک دوربین سے نکلا اس کبوتر نے اڑنا سیکھ لیا وہ پرندہ بھی دین سے نکلا اس کے پیروں کا فرش بننے کو زینہ اپنی زمین سے نکلا میں نے جس پر غرور و ناز کیا شعلہ اس آستین سے نکلا ہائے ہم رو دیے سر محفل اپنا دشمن کمین سے نکلا رات پھیلا چکی تھی اندھیرے روز روشن جبین سے نکلا غور سے دیکھیے تو ہر چہرہ ایک لفظ حسین سے نکلا کچھ مسالہ لگا کہانی کو اصل کردار سین سے نکلا انجمن سے مکان سے دل سے ایک بیچارہ تین سے نکلا

moajiza yuun machine se niklaa

غزل · Ghazal

سمندروں کے سکوں کو بھنور نے چھین لیا کسی کے چین کو اس کے ہی گھر نے چھین لیا سنبھلنے والی نہیں ہے یہ تیز رو دنیا پرانے روگ کو تازہ خبر نے چھین لیا مجھے تو بس یہی دکھ ہے کہ میرے گلشن کی ترنگ و رنگ کو سوکھے شجر نے چھین لیا پرانے کھیل نئے کھیلوں سے جدا تھے میاں وہ پھرتیاں تھیں جنہیں دور زر نے چھین لیا کسی کا سر کوئی دستار کر گئی اغوا کسی کے تاج کو دوجے کے سر نے چھین لیا برائیاں نہ لکھیں تو فرشتے کیا کریں عونؔ خلافتوں کو جو علم بشر نے چھین لیا

samundaron ke sukun ko bhanvar ne chhin liyaa

غزل · Ghazal

جب ہماری زندگی کے درد فلمائے گئے دوستوں کے حکم سے سب سین کٹوائے گئے چھوٹی چھوٹی چادریں بکنے لگیں بازار میں اور پھر ان سے زیادہ پاؤں پھیلائے گئے ٹائلوں کی سنگ مرمر کی زمینیں دی گئیں اس طرح کانٹوں پہ چلنے والے پھسلائے گئے دل پکارا ہر اشارا توڑ دو گاڑی بھگاؤ اور سڑک بولی بہت سے اس طرح آئے گئے منہ میں انگارے کو رکھنے والا بچہ بچ گیا منہ میں انگارے کو سہہ سہہ کر خدا ڈھائے گئے زندگی رونے کو وقت مختصر کا نام ہے اور ہم بچے ہیں جو جنت سے بہلائے گئے

jab hamaari zindagi ke dard filmaae gae

غزل · Ghazal

پٹریوں پر کوئی قبرستان بنوائے گئے ریل کی کھڑکی میں کتنے خواب دفنائے گئے ٹمٹما کر کچھ ستارے یوں پکارے بات سن جانتا ہے کتنے تارے بلب سے کھائے گئے جن چھتوں پر ہوتے تھے کل تک مناظر وصل کے آج ان پر خود کشی کرتے جواں پائے گئے چشم بینا نے جہاں میں کیا نہیں دیکھا میاں چلتی پھرتی قبر پر بھی پھول برسائے گئے ہر کسی کے گھر پہ ٹنکی نسب ہے پانی کی پر قطرہ قطرہ آب کو گھر والے ترسائے گئے آسماں کے کالے جنگل میں تھیں جتنی وحشتیں دور کرنے کے لیے یہ دیپ جلوائے گئے پتھروں کا شہر دکھتا ہے یہ دریا ہوتا تھا اس قدر پتھر ہمارے دل پہ برسائے گئے

paTriyon par koi qabristaan banvaae gae

غزل · Ghazal

اک سمت دنیا مشتعل اور اک طرف ہے سوز دل صدیوں سے جاری ہے یہ پنجہ آزمائی مستقل ہونے لگا ہے رفتہ رفتہ تتلیوں کا خوں سفید پھولوں کو بس اس رنج نے ہی کر دیا ہے مضمحل سورج سے بچ کر آ گیا اک پیڑ کو اپنا لیا اور وہ شجر کرنے لگا مجھ میں حرارت منتقل دستک نہ دے دستک نہ دے دستک نہ دے دل پر مرے خالی مکاں ہے ناصحا مت کر نگہباں کو خجل جاری ہے کب سے کاروبار عشق کیا بتلاؤں میں بازار کا تو کیا کہوں آدم بھی تھے بے آب و گل مالی میسر ہی نہیں مالی میسر ہی نہیں بس دکھ یہی لاحق ہوا ہے اس شجر کو جاں گسل تھا سرعت رفتار دل سے عقل کو ایسا حسد اک اور دل ہی ہو گیا ہے میری منزل میں مخل

ik samt duniyaa mushtail aur ik taraf hai soz-e-dil

Similar Poets