SHAWORDS
Avinash Joshi

Avinash Joshi

Avinash Joshi

Avinash Joshi

poet
4Ghazal

Ghazalغزل

غزل · Ghazal

غزل میری بھی اب اکثر روانی چھوڑ دیتی ہے مرے پنوں پہ یہ تیری نشانی چھوڑ دیتی ہے ہمیں موجود رکھتے ہیں ہمارے لفظ لوگوں میں یہ کایا خاک ہو جاتی زبانی چھوڑ دیتی ہے جوانی کے نشہ میں تو ذرا یہ دھیان میں رکھنا یہ چہرے کی چمک اک دن جوانی چھوڑ دیتی ہے ادا تیرے تکلم کی بہت دل کش ہے میری جاں مرے ادھروں پہ یہ تیری کہانی چھوڑ دیتی ہے اسے محتاط رکھتا ہے تجھے کھونے کا ڈر ہر پل تبھی تو پھر یقیں کرنا دیوانی چھوڑ دیتی ہے بہت مجھ کو ہنساتی ہے تمہاری یاد اکثر ہی یہی اکثر مری آنکھوں میں پانی چھوڑ دیتی ہے اسے یاروں مرے اشعار جانے کیوں نہیں بھاتے جو اولی ٹھیک سے پڑھ لے تو ثانی چھوڑ دیتی ہے

ghazal meri bhi ab aksar ravaani chhoD deti hai

غزل · Ghazal

کوئی موقع نہیں چھوڑا کبھی قاتل بنانے میں گلا گھونٹا ہے دل کا خوب دل کو دل بنانے میں کہیں تعلیم نے آنکھوں کے سب پردے ہٹا ڈالے کہیں تعلیم کا ہی ہاتھ ہے جاہل بنانے میں اکیلا پن بنا دیتا ہے انسانوں کو فولادی مگر سو طاقتیں لگتی ہیں اک بزدل بنانے میں اسے لذت کہاں معلوم ہوگی رہ کے چھالوں کی گزاری زندگی جس نے نئی منزل بنانے میں

koi mauqa nahin chhoDaa kabhi qaatil banaane mein

غزل · Ghazal

جب تک خراب حال کا مارا نہیں بنا وہ آدمی کسی کا سہارا نہیں بنا اظہار پیار کا وہ اشارے میں کر گئی مجھ سے جواب کا بھی اشارہ نہیں بنا اتنی پسند تھی اسے یہ سونی تیرگی وہ مر گیا تھا پھر بھی ستارہ نہیں بنا کس آس میں سفینوں نے چھوڑا ہے چھور یہ اس اور تو ابھی بھی کنارا نہی بنا اس پر لٹائیں سب نے زکاتیں بھی تب تلک جب تک کہ اوروں پہ وہ خسارا نہیں بنا

jab tak kharaab-haal kaa maaraa nahin banaa

غزل · Ghazal

آنکھوں پہ مر گیا ہوں یا حسن کمال پر اٹکا ہوا ہوں کب سے میں بس اس سوال پر مٹی کی کس پہ ہوتی ہے تقدیر منحصر کوزہ گروں کے ہاتھ پہ پہیے کی چال پر آنکھوں کو اس کی دیکھ کے ایسا لگا مجھے اس کے بہت سوال ہیں میرے سوال پر اب آپ کی نصیحتوں سے بھر گیا ہے من سو چھوڑ دیجیے مجھے میرے ہی حال پر کہتے تھے خیر خواہ جو خود کو کبھی میرا چھپ چھپ کے ہنس رہے ہیں وہ میرے زوال پر اس شرط پہ ہی دوں گا تجھے اپنے سارے رنگ گستاخ نظریں نہ گریں رانی گلال پر

aankhon pe mar gayaa huun yaa husn-e-kamaal par

Similar Poets