SHAWORDS
Ayaz Ahmad Talib

Ayaz Ahmad Talib

Ayaz Ahmad Talib

Ayaz Ahmad Talib

poet
6Ghazal

Ghazalغزل

غزل · Ghazal

اک پر کشش کہانی کے کردار کی طرح ہر شخص جی رہا ہے اداکار کی طرح میں چل رہا ہوں بادل نا خواستہ مگر حالات کی گرفت میں پتوار کی طرح جو پھول سے بھی ہلکا تعلق تھا ان دنوں لگنے لگا ہے کوہ گراں بار کی طرح یہ مصلحت نہیں ہے تو پھر ان کے سامنے خاموش کیوں کھڑے ہو گنہ گار کی طرح طالبؔ خوشامدوں کا یہ چولا اتار کر حق مانگ کر تو دیکھیے حق دار کی طرح

ik pur-kashish kahaani ke kirdaar ki tarah

غزل · Ghazal

دست و پا میں مرے حلقے جو یہ زنجیر کے ہیں در حقیقت یہ کرشمے مری تقدیر کے ہیں قابل داد نہیں کیا وہ مصور لوگو شہر در شہر جو چرچے کسی تصویر کے ہیں تشنہ لب جو لب دریا پہ بھی ہیں رہتے ہوئے وہ ستائے ہوئے بگڑی ہوئی تقدیر کے ہیں حوصلہ فتح کا ضامن ہوا کرتا ہے مگر میرے دشمن ہیں کہ قائل مری شمشیر کے ہیں غیر دانستہ نہیں ہیں مرے افسانے میں وہ کئی لفظ جو تشنہ مری تفسیر کے ہیں خوش اگر اپنی خطاؤں پہ ہو تم تو ہم بھی ماننے والے ابھی عشق کی تاثیر کے ہیں اس نے سونپی تھی جو بیٹوں کو وراثت میں کبھی آج افسوں کہ ٹکڑے اسی جاگیر کے ہے یہ ستارے نہیں طالبؔ کہ یہ ٹوٹے ہوئے خواب کسی لیلیٰ کسی شیریں کے کسی ہیر کے ہیں

dast-o-paa mein mire halqe jo ye zanjir ke hain

غزل · Ghazal

نرغے میں گھٹاؤں کے رہا ہے نہ رہے گا خورشید محبت کا چھپا ہے نہ چھپے گا ہو جاتے ہیں ناکام خرد مندوں کے فتنے سر اہل جنوں کا نہ جھکا ہے نہ جھکے گا تم کیوں ہو پریشان کہ تقدیر کا لکھا دنیا کے مٹانے سے مٹا ہے نہ مٹے گا ترکش سے تکبر کے جو اترا کے چلا ہے وہ تیر نشانے پہ لگا ہے نہ لگے گا تعلیم و ہنر ہی وہ خزانہ ہے جو اب تک دولت کے لٹیروں سے لٹا ہے نہ لٹے گا ہو جاتا ہے فوراً جو پشیمان خطا پر نظروں سے عزیزوں کی گرا ہے نہ گرے گا منصب جہاں ظالم کے اثر میں ہو وہاں پر مظلوم کو انصاف ملا ہے نہ ملے گا حاجت سے زیادہ کی طلب سب کو ہے طالبؔ قسمت سے سوا پھر بھی ملا ہے نہ ملے گا

narghe mein ghaTaaon ke rahaa hai na rahegaa

غزل · Ghazal

عاشقی جرأت اظہار تک آئے تو سہی وہ ذرا خوف جہاں دل سے مٹائے تو سہی کیسے اٹھتے ہیں قدم دیکھیے منزل کی طرف دل کے ارشاد پہ سر کوئی جھکائے تو سہی اس کے قدموں میں رفاقت کے خزانے ہوں گے میری جانب وہ قدم اپنے بڑھائے تو سہی جذبۂ جوش محبت تجھے سو بار سلام میری آہٹ پہ وہ دہلیز تک آئے تو سہی ہر غزل میری قصیدہ ہی سہی تیرا مگر تجھ کو اشعار میں یوں کوئی سجائے تو سہی داستاں ہوں گے خود اس اجڑے ہوئے شہر کے غم اس اندھیرے میں کوئی شمع جلائے تو سہی خود بخود راستہ دے گا یہ زمانہ طالبؔ دوستی کے لئے وہ ہاتھ بڑھائے تو سہی

aashiqi jurat-e-izhaar tak aae to sahi

غزل · Ghazal

حدیث دل بیاں کرنے میں کتنی دیر لگتی ہے کسی کو راز داں کرنے میں کتنی دیر لگتی ہے کوئی ہے جس کے دل میں آج تک ہم گھر نہ کر پائے کسی کو مہرباں کرنے میں کتنی دیر لگتی ہے وہ جادوگر کی صورت جھوٹ کو سچ کر دکھاتے ہیں کسی کو بد گماں کرنے میں کتنی دیر لگتی ہے کوئی تو کشمکش ہے دل میں شاید حشر ہے برپا دلہن کو ورنہ ہاں کرنے میں کتنی دیر لگتی ہے کسی بیوہ کے دل سے یہ حقیقت پوچھئے جا کر کہ بچوں کو جواں کرنے میں کتنی دیر لگتی ہے بلندی کھا گئی میری جوانی تم یہ کہتے ہو زمیں کو آسماں کرنے میں کتنی دیر لگتی اگر یہ دل ستم گر کو ستم گر مان لے طالبؔ تو دل کو ہم زباں کرنے میں کتنی دیر لگتی ہے

hadis-e-dil bayaan karne mein kitni der lagti hai

غزل · Ghazal

کہیں پر زندگی کا نام نامی موج مستی ہے کہیں پر آدمیت زندہ رہنے کو ترستی ہے جہان زندگی کی قدرتی تصویر ہیں دونوں کہیں سوکھا پڑا ہے اور کہیں بارش برستی ہے تری دولت تجھے کیا فیض پہنچائے گی تیرے بعد میسر زندگی جتنی بھی قیمت پر ہو سستی ہے کسی قابل میں ہوتا تو کبھی کا قتل ہو جاتا کہ ہر اہل صلاحیت کی دشمن میری بستی ہے محبت ہی کیا کرتی ہے آمادہ بغاوت پر محبت ہی وفاداری کی زنجیروں میں کستی ہے کما لینا مگر ہرگز نہ کرنا پیار دولت سے یہ ناگن اپنے شیدا کو نہتھا کر کے ڈستی ہے کبھی طالبؔ یہاں انسانیت کی قدر ہوتی تھی مگر اب جس طرف بھی دیکھتا ہوں زر پرستی ہے

kahin par zindagi kaa naam-e-naami mauj-masti hai

Similar Poets