SHAWORDS
A

Ayaz Bilgrami

Ayaz Bilgrami

Ayaz Bilgrami

poet
6Ghazal

Ghazalغزل

غزل · Ghazal

آج یوں دل میں تری یاد ہوئی ہے بیدار جیسے معصوم سے چہرے پہ تبسم کی پھوار تا کجا زلف و لب و رخ کی یہ کومل جھنکار سن سکو گر تو سنو وقت کے زخموں کی پکار جنبش لب کی سزا آج بھی اس دنیا میں طوق و زنجیر کہیں ہے تو کہیں منزل دار جس طرف دیکھیے جلوے ہیں تری قدرت کے ہر طرف دیکھیے رستے ہوئے زخموں کی بہار آج جو دھج ہے ترے کوچے کی پہلے تو نہ تھی یوں تو گزرے ہیں انہی رستوں سے ہم سیکڑوں بار پرسش غم ہی بہت ہے کہ زمانے میں ایازؔ کس کو فرصت جو کرے بیٹھ کے زخموں کا شمار

aaj yuun dil mein tiri yaad hui hai bedaar

غزل · Ghazal

وعدے ان حسینوں کے وفا ہو نہیں سکتے پتھر کے صنم ہیں یہ خدا ہو نہیں سکتے اک عمر چبھے ہیں مری آنکھوں میں جو آنسو وہ تو مرے زخموں کی دوا ہو نہیں سکتے فکر غم دنیا ہے کبھی فکر غم دل احسان زمانے کے ادا ہو نہیں سکتے اک شوخ نے یوں دل کو دکھایا ہے کہ یارو سینے سے مرے ہاتھ جدا ہو نہیں سکتے جذبات جو اک عمر سے اس دل میں نہاں ہیں الفاظ میں اے یار ادا ہو نہیں سکتے جنت ملے اب یا نہ ملے لیکن ایازؔ ہم اس بت سے کسی طرح جدا ہو نہیں سکتے

vaade in hasinon ke vafaa ho nahin sakte

غزل · Ghazal

حسن و الفت کی کہانی کیا ہے کیا بتائیں کہ جوانی کیا ہے تیری زلفوں سے مہکتا ہے جہاں مشک کیا رات کی رانی کیا ہے چند الزام جنوں کے ورنہ اور دو دن کی جوانی کیا ہے تیرے دامن کا بھرم رکھتے ہیں اشک کیا چیز ہے پانی کیا ہے تیرے ہونٹوں سے ہوا دل سیراب پیاس کیا تشنہ دہانی کیا ہے جنبش لب کو ترستا ہے ایازؔ پوچھتے کیا ہو کہانی کیا ہے

husn-o-ulfat ki kahaani kyaa hai

غزل · Ghazal

ہوئی ہے دید نہ کوئی نوید آئی ہے عجیب رنگ میں کچھ اب کے عید آئی ہے جدھر جدھر بھی تری مضطرب نگاہ اٹھی ادھر ادھر سے دل و جاں خرید آئی ہے سنبھل سنبھل کے چلے جب بھی ان کے کوچے میں تو جان و دل پہ تباہی مزید آئی ہے کسی نے پوچھ لیا ہے جو دل کا حال کبھی تو جیسے کوچۂ ارماں میں عید آئی ہے ایازؔ کوچۂ قاتل سے آج دل کی ہوس خوشی کے نام پہ کچھ غم خرید آئی ہے

hui hai diid na koi naved aai hai

غزل · Ghazal

اب تیر ستم دل پہ جو چل جائے تو اچھا حسرت مرے قاتل کی نکل جائے تو اچھا آنا ہے تو آ جاؤ کہ پھر ہم نہ ملیں گے کچھ دن دل دیوانہ سنبھل جائے تو اچھا ہے موت تو برحق مگر اس شوخ کی خاطر کچھ دن کے لئے اور جو ٹل جائے تو اچھا پینے دو مجھے آج مرا ہاتھ نہ روکو یہ جان اب اس تن سے نکل جائے تو اچھا اب اس کے ستم ہوں کہ کرم یاد نہ کیجے یہ ہجر کی شب ہے یوں ہی ٹل جائے تو اچھا ساقی سے ہمیں کوئی شکایت نہیں لیکن میخانے کا دستور بدل جائے تو اچھا اک عمر ایازؔ اس کی تمنا میں کٹی ہے اب رنگ طبیعت جو بدل جائے تو اچھا

ab tir-e-sitam dil pe jo chal jaae to achchhaa

غزل · Ghazal

ہو کے اک روز پھر بہم ہم تم بانٹ لیں اس جہاں کا غم ہم تم اب کوئی دل کسی سے ہو نہ جدا عہد آ کر لیں کم سے کم ہم تم پیار عنقا ہے اس زمانے میں رکھ رہے ہیں بس اک بھرم ہم تم ہو ہی جائے گا جان و دل کا حساب پھر ہوئے گر کبھی بہم ہم تم جاتے ڈرتا ہے جس طرف یہ جہاں اب اٹھا لیں ادھر قدم ہم تم متحد ہو تو اے چمن والو توڑ دیں بازوئے ستم ہم تم آؤ مل جل کے بانٹ لیں یارو فکر دل فکر بیش و کم ہم تم آج رسم وفا نبھا ڈالو پھر کبھی ہوں نہ ہو بہم ہم تم آج بھی واں گلاب کھلتے ہیں کل ہوئے تھے جہاں بہم ہم تم

ho ke ik roz phir baham ham tum

Similar Poets