
Ayaz Mahmood Ayaz
Ayaz Mahmood Ayaz
Ayaz Mahmood Ayaz
Ghazalغزل
روٹھ جانے کی عادتیں نہ گئیں دل جلانے کی عادتیں نہ گئیں زخم کھا کر بھی تجھ سے نام ترا گنگنانے کی عادتیں نہ گئیں پیار سے جو بھی مل گیا اس کو دکھ سنانے کی عادتیں نہ گئیں چاند کی شرم سے نقابوں میں منہ چھپانے کی عادتیں نہ گئیں دو دلوں کو اجاڑ کے ہنسنا نہ زمانے کی عادتیں نہ گئیں چاند جیسا ہر اک حسیں چہرہ دل کو بھانے کی عادتیں نہ گئیں بیسیوں بار آزما کے ہمیں آزمانے کی عادتیں نہ گئیں رات کے پچھلے پہر اے ایازؔ گھر کو آنے کی عادتیں نہ گئیں
ruuTh jaane ki aadatein na gaiin
خوشبو کی طرح دل کے گلابوں میں رہے گا وہ چاند ہمیشہ مرے خوابوں میں رہے گا بھیگی ہوئی آنکھوں سے گلے مل کے بچھڑنا وہ شخص سدا دل کے نصابوں میں رہے گا شاید میں ابھی اس کے جگر تک نہیں اترا شاید وہ ابھی اور نقابوں میں رہے گا سانسوں کی طرح میں تیری نس نس میں رہوں گا کھو کر تو مجھے خود بھی عذابوں میں رہے گا نشہ تو تیرے قرب کا ہے جان تمنا کیا لطف ترے بعد شرابوں میں رہے گا ہاں پیار ہے ہاں پیار ہے سولی پہ چڑھا دو اقرار ہے اقرار جوابوں میں رہے گا پھر زرد رتیں دل پہ اترنے لگیں ایازؔ دل تب ہی بچے گا جو خرابوں میں رہے گا
khushbu ki tarah dil ke gulaabon mein rahegaa
اے کاش کہ ٹوٹے ترا پندار کسی دن کر لے تو مرے پیار کا اقرار کسی دن یہ جھانکنا چھپ چھپ کے ہمیشہ نہ رہے گا گر جائے گی یہ بیچ کی دیوار کسی دن حالات کے محبس سے نکالو انہیں ورنہ مر جائیں گے گھٹ کر یہاں خوددار کسی دن سرشار کبھی میں بھی بہت تھا اسے مل کر پچھتائے گا تو بھی اے مرے یار کسی دن سنتے ہیں کہ اس پار بڑی سبز رتیں ہیں کیوں ہم بھی نہ ایازؔ چلیں پار کسی دن
ai kaash ki TuuTe tiraa pindaar kisi din
کیا لطف کہ وہ ظلم بھی جاری نہیں رکھتے کیا دوست ہیں کچھ لاج ہماری نہیں رکھتے ہم لپٹے ہوئے گھر سے بھی رہتے نہیں لیکن ہجرت کا کوئی خوف بھی طاری نہیں رکھتے اعجاز تخیل سے پہنچتے ہیں سر عرش ہم اہل ہنر کوئی سواری نہیں رکھتے رہنے پہ نہیں تم ہی جو تیار تو جاؤ ہم کوئی نشانی بھی تمہاری نہیں رکھتے یہ یاد رہے آن پہ مر مٹتے ہیں ہم لوگ مت بھولنا ہم جان بھی پیاری نہیں رکھتے کیوں بوجھ پروں کا لیے پھرتے ہیں نہ جانے ایازؔ پرندے جو اٹاری نہیں رکھتے
kyaa lutf ki vo zulm bhi jaari nahin rakhte
چھپ چھپ کے ترے ہجر میں رونا تھا ہمارا یہ حال کسی روز تو ہونا تھا ہمارا کر بیٹھے ہیں چور اس کو یہ بہتے ہوئے لمحے دل وقت کے ہاتھوں میں کھلونا تھا ہمارا ملاح بنا تھا تو ادا فرض بھی کرتا کیا تو نے سفینہ ہی ڈبونا تھا ہمارا پھر یہ کہ ہر اک سمت ہی اگنے لگے خنجر اک قطرۂ خوں دوستوں بونا تھا ہمارا اس نے بھی اٹھانا تھا علم ظلم و ستم کا نیزے میں جگر اس نے پرونا تھا ہمارا مجبورئ حالات کی سب بات ہے ورنہ پیتل کے جو بھاؤ بکا سونا تھا ہمارا مینار سے کرتا تھا وہ پیمائشیں ایازؔ قد اتنا تو لا ریب نہ بونا تھا ہمارا
chhup-chhup ke tire hijr mein ronaa thaa hamaaraa
غموں میں ڈھال گیا لوٹ کر نہیں آتا جو پچھلے سال گیا لوٹ کر نہیں آیا بچھڑ گیا ہے وہ خوشیاں سمیٹ کر اور غم مجھے سنبھال گیا لوٹ کر نہیں آیا عجب طلسم ہے اس کی حسین آنکھوں میں ادھر خیال گیا لوٹ کر نہیں آیا میں خود بھی سوچ میں گم ہوں کہ تیرے آنے سے کدھر ملال گیا لوٹ کر نہیں آیا عجیب شخص تھا کھنچ کر صلیب وقت پہ وہ ہمیں اجال گیا لوٹ کر نہیں آیا کٹا وہ شہر سے پھر جب تری گلی سے کٹا شکستہ حال گیا لوٹ کر نہیں آیا ستم ظریف رواجوں کی اوٹ میں اے ایازؔ مرا ہلال گیا لوٹ کر نہیں آیا
ghamon mein Dhaal gayaa lauT kar nahin aataa





