
Ayub Khawar
Ayub Khawar
Ayub Khawar
Ghazalغزل
چراغ قرب کی لو سے پگھل گیا وہ بھی عذاب ہجر سے میں کیا، نکل گیا وہ بھی ردائے ابر جمال حجاب کیا سرکی کہ انگ انگ ستاروں میں ڈھل گیا وہ بھی دیار خواب میں اک شخص ہم قدم تھا مگر پڑا جو وقت تو رستہ بدل گیا وہ بھی یہ اس کی یاد کا اعجاز تھا کہ اب کے برس جو وقت ہم پہ کڑا تھا سو ٹل گیا وہ بھی عجب طلسم نمو تھا وفا کی مٹی میں ہوائے ہجر چلی، پھول پھل گیا وہ بھی
charaagh-e-qurb ki lau se pighal gayaa vo bhi
1 views
طلسم اسم محبت ہے درپئے در دل کوئی بتائے اب اس کا کرے تو کیا کرے دل فسون جنبش مژگاں نہ پوچھیے سر راہ پکارتے ہی رہے ہم ارے ارے ارے دل پھر اس کے بعد ہمیں یہ بھی تو نہیں رہا یاد نظر گری ہے کہاں کھو گیا کہاں زر دل قدم قدم پہ ترا غم ہے خیمہ زن مری جاں ہمک بھرے بھی تو آخر بتا کہاں بھرے دل یہ کنج لب یہ خمار وصال اپنی جگہ مگر جو ہجر مسلسل بپا ہے بر سر دل یہ تو جو مہر بہ لب ہے تو کس لیے خاورؔ یہ دیکھ کیا ہے تہ دل ہے اور کیا سر دل
tilism-e-ism-e-mohabbat hai darpai-e-dar-e-dil
حریم حسن سے آنکھوں کے رابطے رکھنا تمام عمر تحیر کے در کھلے رکھنا حصار آئینہ و خواب سے نکلنے تک شکست ذات کا منظر سنبھال کے رکھنا یہ بارگاہ محبت ہے میری خلوت ہے مرے حریف قدم احتیاط سے رکھنا فراز کوہ شب غم سے دیکھنا ہے اسے مرے خدا مری قسمت میں رت جگے رکھنا گرا دیا جسے اک بار اپنی نظروں سے پھر اس کو خواب کی حد سے بھی کچھ پرے رکھنا
harim-e-husn se aankhon ke raabte rakhnaa
آنکھ کی دہلیز سے اترا تو صحرا ہو گیا قطرۂ خوں پانیوں کے ساتھ رسوا ہو گیا خاک کی چادر میں جسم و جاں سمٹتے ہی نہیں اور زمیں کا رنگ بھی اب دھوپ جیسا ہو گیا ایک اک کر کے مرے سب لفظ مٹی ہو گئے اور اس مٹی میں دھنس کر میں زمیں کا ہو گیا تجھ سے کیا بچھڑے کہ آنکھیں ریزہ ریزہ ہو گئیں آئنہ ٹوٹا تو اک آئینہ خانہ ہو گیا اے ہوائے وصل چل پھر سے گل ہجراں کھلا سر اٹھا پھر اے نہال غم سویرا ہو گیا اے جمال فن اسے مت رو کہ تن آسان تھا تیری دنیاؤں کا خاورؔ صرف دنیا ہو گیا
aankh ki dahliz se utraa to sahraa ho gayaa
سفر میں فاصلوں کے ساتھ بادبان کھو دیا اتر کے پانیوں میں ہم نے آسمان کھو دیا یہی کہ ان نفس غبار ساعتوں کے درمیاں ہوا نے گیت رہگزر نے ساربان کھو دیا یہ کون ساونوں میں خواب دیکھتا ہے دھوپ کے یہ کس نے اعتبار غم پس گمان کھو دیا بس ایک حرف کا گداز اس پہ قرض تھا سو وہ بچھڑتے وقت خامشی کے درمیان کھو دیا فراق منزلوں کا اک غبار تھا کہ جس گھڑی چراغ شب نے اور دل نے میہمان کھو دیا رتوں میں ایک رت یہاں شجر بھی کاٹنے کی تھی پتہ چلا جب اپنے گھر کا پاسبان کھو دیا بچا لیا تھا خواب جو مسافتوں کی دھوپ سے وہ ابر و باد منظروں کے درمیان کھو دیا وہ نیند اپنے بچپنے کی راہ میں اجڑ گئی اس آنکھ نے بھی معجزوں کا اک جہان کھو دیا
safar mein faaslon ke saath baadbaan kho diyaa
اس قدر غم ہے کہ اظہار نہیں کر سکتے یہ وہ دریا ہے جسے پار نہیں کر سکتے آپ چاہیں تو کریں درد کو دل سے مشروط ہم تو اس طرح کا بیوپار نہیں کر سکتے جان جاتی ہے تو جائے مگر اے دشمن جاں ہم کبھی تجھ پہ کوئی وار نہیں کر سکتے جتنی رسوائی ملی آپ کی نسبت سے ملی آپ اس بات سے انکار نہیں کر سکتے آپ کر سکتے ہیں خوشبو کو صبا سے محروم اور کچھ صاحب کردار نہیں کر سکتے ایک زنجیر سی پلکوں سے بندھی رہتی ہے پھر بھی اک دشت کو گل زار نہیں کر سکتے یہ گل درد ہے اس کو تو مہکنا ہے حضور آپ خوشبو کو گرفتار نہیں کر سکتے
is qadar gham hai ki izhaar nahin kar sakte





