Ayyub Aadil
Ayyub Aadil
Ayyub Aadil
Ghazalغزل
kyon us ki talkh mujh se sadaa guftugu rahi
کیوں اس کی تلخ مجھ سے سدا گفتگو رہی ہر لمحہ جس کی رازؔ مجھے آرزو رہی خود اپنے آپ کو بھی پرکھنے کے شوق میں اک عمر آئنہ کی مجھے جستجو رہی میدان کارزار میں اوروں کے ساتھ ساتھ میری انا کی تیغ مرے دو بدو رہی اب کے ہوائے شہر ترقی کی دین ہے بوڑھوں میں بانکپن نہ وہ بچوں میں خو رہی ہر دور میں تو تو ہی رہا موضوع سخن ہر دور میں تری ہی سدا گفتگو رہی پھر اس نے رازؔ چھو لیے ساغر کے سرخ ہونٹ خطرے میں اہل ظرف کی پھر آبرو رہی
gulshan ke baaghbaan se phulon ke paasbaan se
گلشن کے باغباں سے پھولوں کے پاسباں سے کھائے فریب ہم نے اپنوں کے آستاں سے دھوکا فریب نفرت ہر گام بے حیائی بیزار دل ہے میرا مالک ترے جہاں سے اے مجھ پہ ہنسنے والو کل کیا پتہ تمہیں بھی رونا پڑے گا گر کر نظروں کے آسماں سے اترائے پھر رہے ہو زور قلم پہ اپنے اچھا نہیں تکبر مٹ جاؤ گے جہاں سے کرتے ہو نقل اس کی ہر پل ایوب عادلؔ جو خوبیاں ہیں اس میں لاؤ گے تم کہاں سے





