
Ayyub Qasim Karjikar
Ayyub Qasim Karjikar
Ayyub Qasim Karjikar
Ghazalغزل
خموشی کو کبھی گفتار کرنا غم و آلام کو دستار کرنا کسی سے وصل کا وعدہ اگر ہو نبھانے سے اسے انکار کرنا دل و جاں سے جسے چاہا ہے تم نے اسی کی زندگی دشوار کرنا دئے تھے غم جسے تحفے میں تم نے اب اس کا آخری دیدار کرنا جو پل کر آستیں میں ڈس رہا ہو اسی پر سب سے پہلے وار کرنا تمنا ہے اگر محلوں کی تم کو امیروں سے ہمیشہ پیار کرنا جہاں پر نام کے رشتے ہوں ایوبؔ اس آنگن میں کھڑی دیوار کرنا
khamoshi ko kabhi guftaar karnaa
فکر کر عقبیٰ کی عزت کا اگر ارمان ہے چار دن دنیائے فانی کا بشر مہمان ہے خیر و شر کا جائزہ لیتا رہا جو ہر نفس چشم حق آگاہ میں بے شک وہی انسان ہے آئے ہیں دنیا میں ہم تو کام بھی اچھے کریں ورنہ سمجھو زندگی گمنام ہے بے جان ہے جن کو رسوا کر رہا ہے خود پرستی کا نشہ ان سے امید وفا جو رکھے وہ نادان ہے موج غم سے صرف ٹکرانا نہیں کوئی کمال پر سکوں ماحول بھی اے دوستو طوفان ہے جس نے کل اپنی محبت سے کیا تھا آشنا وعدۂ مہر و وفا سے آج وہ انجان ہے جانے والے اپنی یادیں دے گئے تسکین کو میری تنہا زندگی پر ان کا یہ احسان ہے اس طرح تبلیغ دیں ایوبؔ ہو سکتی نہیں تیغ ہے اک ہاتھ میں اک ہاتھ میں قرآن ہے
fikr kar uqbaa ki izzat kaa agar armaan hai
محفل زیست میں دیکھے ہیں اندھیرے برسوں تارے گن گن کے کئے ہم نے سویرے برسوں رنج و غم عشق صنم تشنہ لبی نیم شبی دل نازک کو یہ حالات تھے گھیرے برسوں کیوں نہ ہو خوف زدہ لوگ نگہبانوں سے لوٹتے آئے ہیں سب کو یہ لٹیرے برسوں نام الفت ہی سے اب ہوتی ہے دل کو وحشت ہم کو ڈستی رہی یہ شام سویرے برسوں کوچۂ یار میں رسوائی نے رہنے نہ دیا دشت و صحرا میں لگاتے رہے پھیرے برسوں پارسائی کا سبق ہم کو دیا تھا جس نے غیر کے گھر میں کئے اس نے بسیرے برسوں اونچے محلوں میں انہیں چین نہ آیا ایوبؔ چار تنکوں پہ کئے ہم نے بسیرے برسوں
mahfil-e-zist mein dekhe hain andhere barson
تنہا سے رہ گئے ہیں شب انتظار میں ارماں مچل رہے ہیں دل بے قرار میں وعدے پہ آپ آ نہ سکے اس کا غم نہیں لیکن شگاف کیوں پڑا قول و قرار میں مدھم ہوئی چراغ تمنا کی روشنی شاید وہ اب نہ آئے گا سونے دیار میں بربادیوں کا اپنی ہمیں کوئی غم نہیں رسوائیاں تو آپ نے بھی پائیں پیار میں یہ عشق خاکسار وہ حسن انا پسند بگڑے کہیں نہ بات اسی خلفشار میں کیسے سنائیں حال کسی درد مند کو لب بند ہو گئے ہیں وفا کے حصار میں ایوبؔ بے وفا سے امید وفا نہیں دامن بچائے کانٹوں سے رکھے بہار میں
tanhaa se rah gae hain shab-e-intizaar mein
ان سے کیوں دل ملا نہیں معلوم عشق کیوں کر ہوا نہیں معلوم دوست بھی دشمنوں کے جیسے ہیں کون ہے با وفا نہیں معلوم جو اصولوں پہ جان دیتے تھے کیوں ہوئے پر دغا نہیں معلوم رہبری پر تھا جس کی ناز مجھے کیوں ہے بھٹکا ہوا نہیں معلوم دل کی باتیں سنا جو کرتے ہیں کیا انہیں مدعا نہیں معلوم کیوں مجھے ڈھونڈنے وہ نکلے ہیں گزرا کیا حادثہ نہیں معلوم ظلم جو کر رہے ہیں اپنوں پر ہوں گے کس دن فنا نہیں معلوم اپنے محسن کو قید کرتے ہیں لیکن اس کی خطا نہیں معلوم آج تک ظالموں کو اے ایوبؔ صبر کی انتہا نہیں معلوم
un se kyon dil milaa nahin maalum
زخم تم نے جو دئے اس کی دوا کون کرے راس تنہائی کے آنے کی دعا کون کرے اپنی غلطی کا نہ احساس کبھی ہو جس کو ایسے نادان سے تکرار بھلا کون کرے ہیں جو گمراہ رقیبوں کی کسی سازش میں ان کی دل سوز تباہی کا پتا کون کرے خون کے ساتھ تجارت جو کرے گردوں کی اب یقیں ایسے مسیحا کا بھلا کون کرے گھر بساتے ہی جو ماں باپ کو کہتے ہیں غلط ایسی اولاد سے امید وفا کون کرے قتل و خوں جھوٹ دغا عام ہو جس بستی میں بات حق کی وہاں کہنے کی خطا کون کرے وقت اب دیکھ کے ایوبؔ بغاوت کر لو ظلم ظالم کا شب و روز سہا کون کرے
zakhm tum ne jo diye us ki davaa kaun kare





