SHAWORDS
A

Azam Jalalabadi

Azam Jalalabadi

Azam Jalalabadi

poet
9Ghazal

Ghazalغزل

See all 9
غزل · Ghazal

سودائے عشق خام تو ہر اک بشر میں ہے مجنوں سا ضبط و جوش و جنوں کس کے سر میں ہے اک میں ہی مدح گو نہیں سرکار آپ کا چرچا تمہارے حسن کا ہر ایک گھر میں ہے اللہ رے نور مصحف رخسار کی دمک یہ تاب یہ چمک کہاں لعل و گہر میں ہے گھائل کیے ہزار تو لاکھوں جلا دئے کیا بات ان کی نگۂ جادو اثر میں ہے ناحق ہی کوستے ہو جو رندوں کو شیخ جی دیکھا بھی رشک حور کوئی عمر بھر میں ہے خنجر چھپا لیے ہیں جو مژگاں کی آڑ میں ہم پر عیاں ہے سب جو تمہاری نظر میں ہے بسمل ہوئے رقیب تو ہم تلملا اٹھے سارے جہاں کا درد ہمارے جگر میں ہے خانہ خراب عشق نے دنیا سے کھو دیا اس پر بھی آج تک وہی خفقان سر میں ہے اعظمؔ بجا ہے سیم تنوں کا غرور حسن قدرت ہے ان کی بات میں جادو نظر میں ہے

saudaa-e-ishq-e-khaam to har ik bashar mein hai

غزل · Ghazal

ہوش و حواس جب سے ہمارے چلے گئے جو یار غم گسار تھے سارے چلے گئے اے چارہ گر وہ دیکھ ترے در سے نا مراد بیمار عشق یاس کے مارے چلے گئے احسان ناخدا کا اٹھانا تھا ناگوار اس پار ہم خدا کے سہارے چلے گئے اس بے خودی کی خیر تری جستجو میں ہم اپنا ہی نام آپ پکارے چلے گئے دل میں لیے شکایت بے مہریٔ جہاں جور و جفا کے درد کے مارے چلے گئے ہوش و حواس تاب و تواں ذوق بندگی ہم سے یہ زندگی کے سہارے چلے گئے دنیا سے جب روانہ ہوئے ہم گناہ گار سر منہ چھپائے شرم کے مارے چلے گئے اعظمؔ پلٹ کے آئیں وہ ممکن کہاں بھلا آسودگی میں دن جو گزارے چلے گئے

hosh-o-havaas jab se hamaare chale gae

غزل · Ghazal

وہ حسن کیا جو کسی دل کا مدعا نہ ہوا وہ عشق کیا جو محبت کی انتہا نہ ہوا بچے گا کیا کوئی ان کی نظر کے تیروں سے نشانہ ان کی نظر کا کبھی خطا نہ ہوا کوئی پیام نہ ہم نامہ بر کو دے پائے سلام کہتے ہی فی الفور وہ روانہ ہوا ہمارا ذکر پہنچتے ہی ان کی محفل میں زمانہ بھر کی زباں پر چڑھا فسانہ ہوا خدا کے بندے ہی بندوں پہ ظلم کرتے ہیں خدا کا شکر ہے بندہ ابھی خدا نہ ہوا ترے حضور پہنچ کر بھی سب رہے محروم کسی کو حوصلۂ عرض مدعا نہ ہوا بتوں کی یاد میں اعظمؔ بسر ہوئی اپنی خدا کی یاد کا فرض ایک دن ادا نہ ہوا

vo husn kyaa jo kisi dil kaa muddaaa na huaa

غزل · Ghazal

قسمت کی بات کر نہ مقدر کی بات کر حسن عمل کی حسن تدبر کی بات کر کر اپنے گھر کی بات تو اوقات اپنی دیکھ دارا کی بات کر نہ سکندر کی بات کر کیا غم جو مال و زر سے نہیں فیضیاب تو شکوہ نہ کر کسی سے مقدر کی بات کر جو کچھ ملا ہے تجھ کو مقدر کی دین ہے عقل و ہنر نہ حسن تدبر کی بات کر شاعر ہے اگر شعر کی قیمت نہ کر وصول اپنا ہنر نہ بیچ سخن ور کی بات کر یکتا ہو بے مثال ہو لاکھوں میں ایک ہو ایسے ہی کسی مرد دلاور کی بات کر کس مخمصے میں پڑ گیا اعظمؔ تو آج کل وہم و گماں کو چھوڑ ہنر ور کی بات کر

qismat ki baat kar na muqaddar ki baat kar

غزل · Ghazal

تا بہ افلاک اگر اپنی رسائی ہوتی کچھ تعجب نہیں قبضے میں خدائی ہوتی ناصحا ہم کو طبیعت پہ جو قابو ہوتا دل سی دولت سر بازار گنوائی ہوتی موت نے مجھ کو فراموش کیا خوب کیا آپ نے آنکھ نہ اے کاش چرائی ہوتی میری مٹی کو ٹھکانے جو لگایا تھا تجھے سوئے بت خانہ یہ کم بخت اڑائی ہوتی سب کو تم ساغر زریں میں پلاتے ہو شراب ہمیں تلچھٹ ہی شکورے میں پلائی ہوتی رات دن شیخ حرم کلمہ بتوں کا پڑھتا بت کدے میں جو کبھی اس کی رسائی ہوتی بھولتے ہم نہ کبھی باد صبا کا احساں کاکل یار کی خوشبو جو سنگھائی ہوتی پوچھتا میں بھی مزاج آپ کا شوخی سے یوں ہی چوٹ دل کی جو کہیں آپ نے کھائی ہوتی تھا ازل سے دل اعظمؔ میں کوئی اور مکیں اس میں کیا عشق حسیناں کی سمائی ہوتی

taa-ba-aflaak agar apni rasaai hoti

غزل · Ghazal

شباب آیا تڑپنے اور تڑپانے کا وقت آیا اگر سچ پوچھئے بے موت مر جانے کا وقت آیا ابھی جی بھر کے پی لو پھر نہ جانے کس پہ کیا گزرے قریب اب شیخ جی کے وعظ فرمانے کا وقت آیا انہیں پاس حیا ٹھہرا تو اپنے پاؤں لرزاں ہیں ہماری جرأتوں کا ان کے شرمانے کا وقت آیا گھٹا چھائی برسنے کو ہیں بوندیں ابر‌ نیساں سے نہیں پیتے جو ناداں ان کو سمجھانے کا وقت آیا نہ ہو جائے کہیں پھر آپ سے تم تم سے تو اعظمؔ حدود عقل سے باہر نکل جانے کا وقت آیا

shabaab aayaa taDapne aur taDpaane kaa vaqt aayaa

Similar Poets