Azar Tamanna
یقیں بناتا ہے کوئی گماں بناتا ہے جو آدمی ہے الگ داستاں بناتا ہے شکست کرتا ہے زنجیر خانہ و محراب اور ایک حلقۂ آوارگاں بناتا ہے گل وجود سے کرتا ہے کسب کوزۂ جاں خمار سود میں لیکن زیاں بناتا ہے کمال بے خبری ہے اگر بہم ہو جائے مگر یہ زیست کو آساں کہاں بناتا ہے پس چراغ ارادہ کوئی تو ہے آذرؔ جو میرے شعلۂ دل کو دھواں بناتا ہے
yaqin banaataa hai koi gumaan banaataa hai